معراج نامہ

اللہ اللہ بایں اوج مقامِ محمود
یعنی وہ راکبِ براق چلا سوئے ودود
وہ ملائک جو ازل ہی سے رہے وقفِ سجود
پئے تعظیم کھڑے ہو گئے سب پڑھ کے درود
اسکی توصیف و ستائش میں قلم بہنے لگا
خالق کون و مکاں(ج) صلِّ علی کہنے لگا

حکم باری ہوا ہم آج بلاتے ہیں تجھے
قاب قوسین کے جھولوں پہ جھلاتے ہیں تجھے
مژدۂ بخشش امت بھی سناتے ہی تجھے
فائزِ رتبۂ معراج بناتے ہیں تجھے
آسمانوں سے بلند آج تری جلوہ گری
بمقامے کہ رسیدی نہ رسد ہیچ نبی
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ