معروف شاعر اثر بہرائچی کا یوم پیدائش

آج معروف شاعر اثر بہرائچی کا یوم پیدائش ہے

سید مبشر حسین اثر بہرائچی کی ولادت شہر بہرائچ کے محلہ چکی پورہ چھوٹی بازار میں سید عنایت حسین صاحب کے گھر میں 1اکتوبر1946ء کو ہوئی۔ آپ کی والدہ کا نام محترمہ مسلمہ خاتون تھا۔ اثر صاحب نے ہائی اسکول تک تعلیم حاصل کی۔ اثر صاحب جب ہائی اسکول میں تھے تبھی آپ کے والد کا انتقال ہو گیا جس کے سبب آپ ہائی اسکول تک ہی تعلیم لے پاے او ر 1964ء میں سرکاری ملازمت اختیار کر لی اور ڈی۔ ایم۔ آفس میں۔ سن 2006ء میں آپ ملازمت سے ریٹائر ہوئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ادبی خدمات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : داغ دہلوی کے جانشین نوح ناروی کا یوم پیدائش
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اثر بہرائچی کو بچپن سے ہی شاعری کا شوق تھا۔ آپ کے چچا جناب حکیم محمد اظہر ؔ وارثی صاحب شہربہرائچ کے مشہور حکیم ہونے کے ساتھ ایک مشہور استاد شاعر بھی تھے اور حکیم اظہر صاحب نے ہی آپ کو اثر ؔ کا تخلص دیا اور آج آپ اثرؔ بہرائچی کے نام سے پوری ادبی دنیا میں مشہو رہیں۔ اثر بہرائچی کے استاد حکیم محمد اظہر وارثی صاحب تھے، حکیم اظہر صاحب کے انتقال کے بعد آپ نے جناب اظہار وارثی سے شرف تلمذ حاصل کیا جو آج بھی حاصل ہے۔ اثر کا ادبی سفر 1969ء میں ملک محمد جائسی کی سرزمین جائس رائے بریلی کے ایک مشاعرے سے ہوا،اور اب تک ملک و بیرون ملک میں سیکڑوں مشاعرے پڑھ چکے ہے۔ آپ نے 3 بار کاٹھ مانڈو میں 1969ء، 1970ء اور 1972ء کے مشاعروں مین شرکت کی اور نیپال کے بادشاہ مہندرا ویر وکرم شاہ دیو اور ہندوستانی صفیر کے سامنے آپ نے کلام پیش کیااور داد تحسین حاصل کی۔ اس کے علاوہ سن 2010ء میں ریاستہائے متحدہ امریکا کے مختلف شہروں جیسے نیویارک، ہوسٹن، شکاگو،نیو جرسی،کیلی فورنیا وٖغیر ہ میں تقریباً 12مشاعروں میں شرکت کی اور سامعین کو اپنے کلام سے متاثر کیا۔ آپ کا کلام ملک زادہ منظور احمد کے رسالے امکان میں شائع ہوتا رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اظہار وارثی صاحب کے ساتھ اثر بہرائچی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نعمت بہرائچی اپنی کتاب تذکرہ شعرائے ضلع بہرائچ میں اثر صاحب کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اثر صاحب غزل گو شاعر ہیں۔ ان کے یہاں غزل محض عشق و محبت کے جذبات کی عکاسی کے لیے وقف نہیں بلکہ غزل میں تمام زندگی کے بکھرے ہوئے وسیع موضوعات بھی ملتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر اور نقاد احمد صغیر صدیقی کا یوم وفات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ادبی سخصیات سے رابطہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اثر صاحب کا ادبی سفر چار دہائیوں پر مشتمل ہے۔ اس دوران میں آپ کا اپنے وقت کے تمام بڑے ادیبوں اور شاعروں سے رابطہ رہا۔ جس میںفراق گورکھپوری،نشور واحدی،شکیل بدایونی،مجروح سلطان پوری،خمار بارہبنکوی،کیفی اعظمی،جمال بابا،ڈاکٹر نعیم اللہ خیالیؔ بہرائچی،شفیع ؔبہرائچی،محسن زیدی،شوق ؔ بہرائچی،عمر قریشی گورکھپوری،عبرت بہرائچی،ملک زادہ منظور احمد،ساحرلدھیانوی،فنا نظامی،دل لکھنوی،انورمرزاپوری،خاموش غازی پوری،اجمل سلطان پوری،ساغرمہدی بہرائچی،رزمی صاحب،وصفی بہرائچی،وغیرہم سے آپ کے قریبی تعلقات رہے۔ اظہار وارثی صاحب کی سرپرستی میں آج بھی آپ کی شاعری پرواز پر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ادبی کاوشیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اثر بہرائچی صاحب کے دو مجموعہ کلام اب تک منظر عام پر آئے اور داد تحسین حاصل کی۔ پہلا مجموعہ نعتیہ مجموعہ ہے جس کا نام ’’قلوب‘‘ ہے۔ جبکہ دوسرہ مجموعہ غزلوں اور نظموں پر مشتمل ہے اور اس مجموعہ کا نام ’’حرف حرف خوشبوں ‘‘ ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اعزازات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اثرصاحب کو بہت سی ادبی تنظیموں نے انعامات سے نوازا ہے جون پور کی ایک تنظیم نے آپ کو ’منظوم‘ ایوارڈ سے سرفراز کیا ہے۔ ضلع بہرائچ کے ڈی۔ ایم۔ صاحب نے بھی انعامات سے نوازا ہے۔ آل انڈیا ریڈیو لکھنوء اور دور درشن لکھنوء سے آ پ کئی بار اپنا کلام پڑھ چکے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ممتا سے مہکی مہکی ہوائیں چلی گیئں
بیٹا پکارنے والی صدائیں چلی گیئں
بخشے گا کون مر ہم زخم جگر اثرؔ
گھر سے ہمارے ماں کی دعائیں چلی گیئں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : وہ روشنی ہے علیؓ کی گھر میں فلک سے جو نور بہہ رہا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی ہم نفس نہیں ہے ، کوئی چارہ گر نہیں ہے
نہیں اس طرف ہے کوئی وہ نظر جدھر نہیں ہے
ترا غم ، تری محبت ، ہے جبینِ دل کا مرکز
مرا ذوقِ سجدہ ریزی ابھی دربدر نہیں ہے
نہیں دل ہے دل وہ جس میں تری یاد ہو نہ باقی
جو اٹھے نہ تیری جانب وہ نظر نظر نہیں ہے
مرا حال غم سنا جب تو وہ مسکرا کے بولے
بخدا تمہارے غم کی مجھے کچھ خبر نہیں ہے
نہ ہٹاؤ رُخ سے پردہ ، نہ دکھاؤ اپنا جلوہ
کہ مذاقِ دیدۂ و دل ابھی معتبر نہیں ہے
مرے غم پہ مسکراؤ یہ تہمارا حق ہے لیکن
نہیں کچھ بھی زندگی میں غمِ دل اگر نہیں ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جن پر تری نگاہ پڑی وہ سنور گئے
جن سے تری نگاہ پھری وہ بکھر گئے
اس دور پر ملال میں آئے گی کیا ہنسی
خنداں لبی کے یار زمانے گذر گئے
منزل تمام عمر نہیں مل سکی انہیں
رستے میں پا کے چھاؤں کہیں جو ٹھہر گئے
آلامِ زندگی میں مزہ زندگی کا ہے
وہ کیا جیئیں گے جو غمِ دوراں سے ڈر گئے
خودداری و ضمیر و وفا جن کی مر گئی
وہ لوگ اپنی موت سے پہلے ہی مر گئے
آشفتگانِ عشق کا عالم نہ پوچھیے
نکلے تری طلب میں تو واپس نہ گھر گئے
دونوں جہاں میں ہیں وہی سرخرو اثر
دارو رسن سے ہنستے ہوئے جو گذر گئے
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

شاعر عباس تابش کا یوم پیدائش
معروف شاعر روش صدیقی کا یوم پیدائش
معروف شاعر اور براڈکاسٹر ایوب رومانی کا یوم وفات
ممتاز ناول نگار , افسانہ نگار قرۃ العین کا یوم پیدائش
معروف شاعر , صوفی حضرت واصف علی واصفؒ کا یوم وفات
نامور ترقی پسند شاعر اور صحافی ظہور نظر کا یوم پیدائش
اردو اور پنجابی کے نامور ادیب محمد منشاء یاد کا یوم پیدائش
معروف شاعر احمد صغیر صدیقی کا یوم پیدائش
معروف ادیب سید الطاف علی بریلوی کا یوم وفات
شاعر سید ہاشم رضا کا یومِ پیدائش

اشتہارات