معروف شاعر مختار الحق صدیقی کا یوم وفات

آج معروف شاعر، نقاد، مترجم اور براڈکاسٹر مختار الحق صدیقی کا یومِ وفات ہے

مختار صدیقی یکم مارچ، 1917ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام مختار الحق صدیقی تھا۔
انہوں نے تعلیمی زندگی کے مدارج گوجرانوالہ اور لاہور میں طے کیے اور ایم اے (اردو) کی ڈگری گارڈن کالج راولپنڈی سے گولڈ میڈل کے ساتھ حاصل کی۔
وہ سیماب اکبرآبادی کے شاگرد تھے۔
مختار صدیقی شاعر اور مترجم ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نہایت عمدہ براڈ کاسٹر بھی تھے۔
قیام پاکستان کے بعد وہ ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہوئے اور پھر پاکستان ٹیلی ویژن کے قیام کے بعد اس ادارے میں بطور اسکرپٹ ایڈیٹر منسلک ہوئے۔
۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : ممتاز شاعر اور صحافی شمس زبیری کا یومِ وفات
۔۔۔۔۔۔۔
مختار صدیقی کی شاعری کے مجموعے منزل شب، سہ حرفی اور آثار کے نام سے شائع ہوئے۔
انہوں نے چینی مفکر ڈاکٹر لن یو تانگ کی کتاب کا ترجمہ جینے کی اہمیت اور آندرے موروا کی کتاب کا ترجمہ جینے کا قرینہ کے نام سے کیا جو بہت مقبول ہوئے۔
اس کے علاوہ انہوں نے ڈرامے بھی تحریر کیے۔
تصانیف
شاعری
منزل شب
سہ حرفی
آثار
تراجم
جینے کی اہمیت
جینے کا قرینہ
نثر
مقالاتِ مختار صدیقی
ڈرامے
درمان
کانٹے والا
مختار صدیقی کے فن و شخصیت پر کتب ومقالہ جات
مختار صدیقی نوکلاسیکی روایت کا ترجمان، ڈاکٹر حمیرا اشفاق، سنگ میل پبلی کیشنز، 2012ء
مختار صدیقی : حیات و خدمات (پی ایچ ڈی مقالہ)، صابرہ شاہین، جی سی یونیورسٹی، لاہور
مختار صدیقی 18 ستمبر، 1972ء کو لاہور میں وفات پا گئے اور لاہور میں میانی صاحب کے قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے
۔۔۔۔۔۔۔
نمونۂ کلام
۔۔۔۔۔۔۔
رات کے بعد وہ صبح کہاں ہے دن کے بعد وہ شام کہاں
جو آشفتہ سری ہے مقدر اس میں قیدِ مقام کہاں
بھیگی رات ہے سونی گھڑیاں اب وہ جلوۂ عام تمام
بندھن توڑ کے جاؤں لیکن اے دلِ ناکام کہاں
اب وہ حسرت رسوا بن کر جزو حیات ہے برسوں سے
جس سے وحشت کرتے تھے تم اب وہ خیالِ خام کہاں
زیست کی رہ میں اب ہم بے حس تنہا سر بہ گریباں ہیں
کچھ آلام کا ساتھ ہوا تھاوہ بھی نافرجام کہاں
کرنی کرتے راہیں تکتے ہم نے عمر گنوائی ہے
خوبی قسمت ڈھونڈ کے ہاری ہم ایسے ناکام کہاں
اپنے حال کو جان کے ہم نے فقر کا دامن تھاما ہے
جن داموں یہ دنیا ملتی اتنے ہمارے دام کہاں
۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : نقطہ وروں نے ہم کوسمجھایا خاص بنو اور عام رہو
۔۔۔۔۔۔۔
شوخ تھے رنگ ہر اک دور میں افسانوں کے
دل دھڑکتے ہی رہے آس میں انسانوں کے
علم نے خیر نہ چاہی کبھی انسانوں کی
نقش ملتے رہے کعبے میں صنم خانوں کے
زندگی والہ و شیدا رہی فرزانوں کی
ہم روشن ہوئے ہر دور میں دیوانوں کے
مریمی مورد تہمت رہی ارمانوں کی
ٹکڑے ایک دفترِ الزام ہیں دامانوں کے
فکر سب کو ہے رفو کے لیے سامانوں کی
پوچھتا کوئی نہیں حال گریبانوں کے
قدر کچھ کم تو نہیں اب بھی تن آسانوں کی
روز و شب آج بھی بھاری ہیں گراں جانوں کے
۔۔۔۔۔۔۔
پھر بہار آئی ہے پھر جوش میں سودا ہوگا
زخمِ دیرینہ سے پھر خون ٹپکا ہوگا
بیتی باتوں کے وہ ناسور ہرے پھر ہوں گے
بات نکلے گی تو پھر بات کو رکھنا ہوگا
یورشیں کر کے امڈ آئیں گی سونی شامیں
لاکھ بھٹکیں کسی عنوان نہ سویرا ہوگا
جی کو سمجھائیں گے متوالی ہوا کے جھونکے
پھر کوئی لاکھ سنبھالے نہ سنبھلنا ہوگا
کیسی رت آئی ہوا چلتی ہے جی ڈولتا ہے
اب تو ہنسنا بھی تڑپنے کا بہانہ ہوگا
دل دھڑکنے کی صدا آئے گی سونے پن میں
دور بادل کہیں پربت پہ گرجتا ہوگا
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

معروف نغمہ نگار اسد بھوپالی کا یوم پیدائش
امیر الاسلام ہاشمی کا یومِ پیدائش
نامور افسانہ و ڈرامہ نگار میرزا ادیب کا یوم وفات
معروف افسانه نگار اور ادیبہ عصمت چغتائی کا یومِ پیدائش
معروف شاعرہ پروین فنا سید کا یوم پیدائش
نامور سندھی ادیب اور صحافی غلام محمد گرامی کا یوم وفات
ممتاز ادیب اور صحافی آغا بابر کا یومِ وفات
مشہور و معروف شاعر شکیب جلالی کا یومِ پیدائش
مصنف حکیم محمد سعید کا یومِ وفات
ممتاز شاعر اور نقاد نظیر صدیقی کا یوم وفات