معرکہ گاہِ جہاں میں ہیں سلامت اب تک

معرکہ گاہِ جہاں میں ہیں سلامت اب تک

ہاتھ آیا ہے یہی مالِ غنیمت اب تک

 

وقت کٹتا ہی نہ تھا کاٹ کے رکھ دیتا تھا

عمر گزری ہے کہ گزری ہے قیامت اب تک

 

یوں تو منسوخ ہوئے سارے صحائف لیکن

دل کو ٹھہرا ہے ترا زکر تلاوت اب تک

 

صورتِ حال بدکتی تو بدلتے دن بھی

اور حالات کی بدلی نہیں صورت اب تک

 

جو بھی چہرے تھے مظاہر تھے تمہارے یعنی

ہو چکی تم سے کئی بار محبت اب تک

 

دل ہے نادار سو قسطوں میں ادا کرتا ہے

اس پہ واجب ہے ترے عشق کی قیمت اب تک

 

اک اداسی کہ پسِ مرگ ابھر آئی ہے

یوں تو ہر شے سے رہی دل کو شکایت اب تک

 

کوئی شہناز کہیں ہے تو اسے جا کے کہو

ایک زیدی کہ ہے جاں دادہِ وحشت اب تک

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ