اردوئے معلیٰ

مغموم نہ ہو حرف کو پابندِ ثنا کر

سرکار نوازیں گے مدینے میں بُلا کر

 

اے قریۂ محبوب سے آئی ہُوئی خُوشبو

آ،کوچۂ احساس میں،سانسوں میں رَہا کر

 

اے مالکِ کُل ! میری تمنا کا بھرم رکھ

لایا ہُوں دُعاؤں کو بھی نعتوں میں سجا کر

 

کچھ اور تقاضا نہیں اس جذبِ دروں کا

تُو دینے پہ قادر ہے مجھے خُود کو عطا کر

 

مٹ جائے گی ہر کرب کے امکان کی صورت

ٹل جائیں گے غم،صلِ علیٰ صلِ علیٰ کر

 

گھَٹتے ہیں کہاں اُس درِ رحمت کے خزانے

تُو مانگ سدا مانگ،صداؤں پہ صدا کر

 

تسکین میں ڈھلتی نہیں تدبیر کی باتیں

اِس پیکرِ خاکی کو عطا خاکِ شفا کر

 

آتا ہے اُنہیں کاسۂ احساس کو بھرنا

بہتر ہے تُو خواہش کو پسِ حرف رکھا کر

 

مقصودؔ مدینے کی ثنا بار فضائیں

رکھتی ہیں مجھے بھی تو مدینے کا بنا کر

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات