اردوئے معلیٰ

Search

مقدر میرا چمکے گا درِ سرکار دیکھوں گا

مجھے بلوائیں گے آقا درِ سرکار دیکھوں گا

 

ہے دل میں آرزو کب سے سُنہری جالیاں دیکھوں

خدا نے بھی اگر چاہا درِ سرکار دیکھوں گا

 

سلاطینِ زمانہ بھی جبیں اپنی جھکاتے ہیں

اُسی چوکھٹ کا ہُوں منگتا درِ سرکار دیکھوں گا

 

لگے ہیں میرے آقا کے قدم طیبہ کی گلیوں میں

مُنّور ہے ہر اک ذرّہ درِ سرکار دیکھوں گا

 

ملائیک بھی جہاں شام و سحر بہرِ سلام آئیں

بلند اُس در کا ہے رُتبہ درِ سرکار دیکھوں گا

 

مِنارے مسجدِ نبوی کے دلکش اور نورانی

چمکتا صحن وہ پیارا درِ سرکار دیکھوں گا

 

وہ جنت کی حسیں کیاری وہ پیارا مِنبرِ اقدس

اُنہیں دل میں بسا لوں گا درِ سرکار دیکھوں گا

 

اگر سو بار بھی دیکھے کوئی نیت نہیں بھرتی

یہی ہر بار ہے کہتا درِ سرکار دیکھوں گا

 

ضیا سارے زمانے کو یقینًا دے رہا ہے جو

وہ روشن گنبدِ خضرا درِ سرکار دیکھوں گا

 

مجھے طیبہ میں آنا ہے مقدر جگمگانا ہے

یہی ارمان ہے دل کا درِ سرکار دیکھوں گا

 

ابوبکر و عمر فاروق ہیں جو اُن کے پہلو میں

سلامِ شوق ہو میرا درِ سرکار دیکھوں گا

 

جئے جاتا ہے دنیا میں اِسی امید پر مرزا

بُلاوا آ ہی جائے گا درِ سرکار دیکھوں گا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ