ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

عصر کی اذان ہونے میں آدھا گھنٹہ باقی تھا اور وہ دونوں تندہی سے قاعدے کا سبق یاد کرنے میں مگن تھیں ـ اگر سبق صحیح نہ سنایا تو عصر کے بعد کھیلنے کی اجازت نہیں ملتی ـ
یہی روز کا معمول تھا ـ ابا ظہر کے وقت گھر آتے ـ قیلولہ فرماتے اور عصر کی نماز ادا کر کے کلینک چلے جایا کرتے ـ لیکن اس دوران ان کو قاعدہ پڑھاتے ‘ قرأت سکھاتے اور تجوید کے رموز و اوقاف سے آگاہ کرتے ـ
خود بھی تلاوت کیا کرتے اور ہر مرتبہ جب بھی وہ
وما اُھِل بہ لغیر اللہ
کی تلاوت کرتے تو انھیں پاس بٹھا کے غیر اللہ کا مطلب سمجھاتے ـ
ہر وہ آیت جس میں شرک سے بچنے کا ذکر تھا اس آیت کا ترجمہ ابا ان چار اور سات سال کی عمر کی بچیوں کو ضرور پڑھاتے ـ
کچھ سمجھ آجاتا کچھ نہ آتا لیکن وہ دونوں سنتی ضرور تھیں ـ
بڑی بچی کے مخارج درست ہونے میں وقت لگتا اور چھوٹی سبھی مخارج درست ادا کر کے چھٹی کر کے یہ جا وہ جا ـ
گھر سے باہر کھیل کود کی سختی سے ممانعت تھی ـ اور یہ ایسی سخت تنبیہہ تھی کہ باہر نظر آنے کی صورت میں چمڑی ادھیڑی جانی یقینی تھی ـ لیکن کچھ بچوں کی اپنی دھن اور اپنی منزل ہوتی ہے ـ
چھوٹی بچی بھی الگ ہی تھی ـ وہ تمام محلے کی بچیوں کے ساتھ گھر کے سامنے بنے پلاٹ میں اسٹاپو کھیلتی ـ لکن میٹی ‘ نیلی پری ‘ ریڈی یس ‘ پکڑن پکڑائی ‘ برف پانی سبھی کھیل کھیلتی اور مغرب کی اذان کے ساتھ گھر میں موجود ہوتی ـ
مغرب کی نماز کے بعد اسکول ہوم ورک منٹوں میں یاد کرتی اور رات ابا کے آنے پہ انھیں سناتی ـ
ہر مرتبہ ابا سبق سننے پہ ناراض ہوتے کہ سبق لکھ کر یاد کیوں نہیں کرتی ہو ـ اور وہ کہتی ابا مجھے ایسے ہی یاد ہوتا ہے ـ لکھوں کیوں ـ
ابا کو جواب نہیں دیتے ـ بڑی بہن سمجھاتی ـ لیکن ابا نے چھوٹی کو کبھی ڈانٹا نہیں تھا ـ
تب بھی نہیں جب وہ دونوں قلم گھڑتیں اور اسے قلم کی نب ترچھی کاٹنے کے بعد قلم کے عین درمیان میں کٹ لگانا نہیں آتا اور وہ پوری قلم کاٹ دیا کرتی ـ
پھر ابا اسکی قلم گھڑتے اور ہر روزانھیں
الف ‘ ب ‘ ج لکھنا سکھایا کرتے ـ
وہ چڑتی اور بہن سے کہتی ہم ہر روز یہی تین حرف کیوں لکھتے ہیں ـ
بہن سمجھاتی کہ چونکہ ابا یہی تین حرف لکھواتے ہیں تو اسی لیے ہم لکھتے ہیں ـ لیکن ایک دن اس نے ابا سے پوچھ ڈالا …
ابا! ہم ہر روزیہی کیوں لکھتے ہیں ـ
وہ مسکرا دیتے اور کہتےجب تک انکی مشق کر کے انھیں درست نہ سیکھ لیا جائے تب تک مزید سیکھنا بے فائدہ ہے ـ
اماں نے کبھی اسکول کی شکل نہیں دیکھی تھی ـ لیکن ابا نے انھیں لکھنا پڑھنا سکھایا تھا ـ وہ ہر روز ان کے ساتھ بیٹھتے اور انھیں الفاظ لکھنا سکھاتے ـ
چھوٹی اماں جنہیں اردو بولنی بھی نہیں آتی وہ اخبار پڑھ کے سنایا کرتیں ـ ہر نئی جگہ پہ لکھا ہوا بورڈ پڑھ لیتیں اور اس مقام کی شناخت کے طور پہ اسے یاد رکھتیں ـ
ابا گھر اور خاندان بھر میں واحد پڑھے لکھے شخص تھے ـ لیکن اس ایک چراغ سے ہزاروں چراغ روشن ہوئے ـ
بچیاں شادی کے تیرہ سال بعددنیا میں آئیں ـ اور انکی زندگی کا مطمع نظر بن گئیں ـ اٹھنا بیٹھنا سونا جاگنا آنا جانا کھانا پینا ہر کام کا طریقہ ہمہ وقت سکھلایا کرتے ـ
اونچی آواز گدھے کی ہوتی ہے بیٹا ـ آہستہ بات کرو
ایک ٹانگ پہ سارا وزن ڈال کے کھڑے نہیں ہوتے ـ جب بھی کوئی آواز دے کے پکارے تو فوری طور پہ رد عمل دیتے ہیں ” جی ” کہہ کے ـ
ہر کام میں صبر سے کام لو ـ جلد بازی نہ کرنا کبھی ـ
کبھی مت گھبرانا .. مؤقف سخت لہجہ نرم رکھنا ـ کبھی کسی عام اور معمولی چیز پہ قناعت مت کرنا ..ہمیشہ اعلیٰ اوراچھی شے کے حصول کی کوشش کرنا
یہ وہ اسباق تھے جو وہ ہمہ وقت دہرایا کرتے ـ
بچیاں اسکول سے آگئی ہیں ـ جوتے اتار کے اپنے موزے جوتوں میں رکھو ـ جوتے اسی وقت پالش کر کے دھوپ میں رکھ دو تا کہ جوتوں سے بد بو نہ آئے ـ
کپڑے خود سنبھال کے رکھو ـ ماں کو کپڑوں کے لیے آواز مت دو ـ اپنی چیزیں سنبھالنے کی خود عادت ہونی چاہیے ـ
بچپن سے بڑھاپے تک ابا کے ساتھ بیٹھ کر کبھی ٹیلی ویژن نہیں دیکھا ـ ابا ڈرامے دیکھنے کو سخت نا پسند کرتے ـ موسیقی سے قطعاً کوئی لگاؤ نہیں تھا ـ گھر میں کوئی ٹیپ ریکارڈر ‘ ریڈیو کبھی بھی موجود نہیں رہا ـ
عصر سے مغرب تک کا وقت فقط کھیل کود کے لیے دیتے ـ نو بجے کے بعد کسی کو بھی بستر سے باہر دیکھنے پہ غضب ناک ہوتے ـ
بچیوں نے زندگی ایک سخت اصول پسند قسم کے وارڈن کے ساتھ گزاری جو گھڑی کی ٹک ٹک کے ساتھ چلتے ـ اور انھیں بھی چلاتے ـ
یہ ڈسپلن زندگی میں کس قدر ضروری ہے اسکا اندازہ چھوٹی کو تب ہوا جب اس نے زندگی کو گھڑی کی سوئیوں کے مخالف چلایا … رات کو جاگی دن کو سوئی ـ صبح کا باشتہ دوپہر میں کیا دوپہر کا رات کو کھایا ـ
نوبجے بستر کا وقت تھا نو بجے وہ لائٹ جلا کے پڑھنے لگتیں ـ ہم سمجھتے ہیں بچے باغی ہو گئے ہیں لیکن یقین رکھیے بچوں کے ذہنوں میں والدین کی دی گئی ہدایات اس قدر پختہ ہوتی ہیں کہ وہ لاکھ چاہیں اس روٹین ان طور طریقوں سے ہٹ نہیں پاتے ـ
اسکا اندازہ اس دن ہوتا ہے جب وہی بچی ہر چیز کو گھڑی کی سوئیوں کے ساتھ چلاتی ہے اور جب بچوں کو سزا دینے کے لیے کہتی ہے کہ دیوار کی جانب منہ کر کے کھڑے ہو جاؤ ـ تو یاد آتا ہے کہ ایسی ہی سزا اسکے ابا میاں دیا کرتے تھے ـ
دونوں بہنیں لڑائی کرتیں تو سزا ہوتی کہ ماچس کے ایک سرے کو ایک پکڑ لے دوسرے کودوسری … یہ ایسی عجیب سزا ہوا کرتی تھی کہ نہ سمجھ میں آتا سزا ہے نہ پتا چلتا جزا ہے ـ
کچھ بچوں کو ہر کام کی لاجک درکار ہوتی ہے ـ اورماں باپ کے اوامر و نہی کی لاجکس اس دن سمجھ آتی ہیں جب آپ خود انکی جگہ آن کھڑے ہوتے ہیں ـ
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

داستانِ پُراسرار: گوروں کے دیس کے مُشاعرے
جو سوئے دار سے نکلے
بیٹی کے نام خط (۱ )
مُشتاق احمد یوسفی سے مُلاقات: ایک دیرینہ خواب کی تعبیر
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
پیاری اماں کے لیے خط (۱)
 کہانی بحرین کی
جب ہم ملے
بیٹی کے نام خط ( ۳ )
منٹو اور اکیسویں صدی کا افسانہ نگار