ملی ہے محبت حضورؐ آپؐ کی

 

ملی ہے محبت حضورؐ آپؐ کی

بڑی ہے عنایت حضورؐ آپؐ کی

 

سبھی کے لبوں پر ہے نام آپؐ کا

سبھی کو ہے چاہت حضورؐ آپؐ کی

 

وہی ہے معزز ہمارے لیے

جو کرتا ہے عزت حضورؐ آپؐ کی

 

دُعا جب بھی مانگی ہے معبود سے

تو مانگی ہے قربت حضورؐ آپؐ کی

 

خدا کے سوا کوئی سمجھا نہیں

ہے مخفی حقیقت حضورؐ آپؐ کی

 

محبت ہے ماں باپ سے بھی مگر

مقدم محبت حضورؐ آپؐ کی

 

کرم اور کیا ہو خطا کار پر

ملے گی شفاعت حضورؐ آپؐ کی

 

عطا بے بہا، جود بے انتہا

کرم کی ہے عادت حضورؐ آپؐ کی

 

ابوبکرؓ و عثمانؓ و حیدرؓ ہوئے

ملی جن کو صحبت حضورؐ آپؐ کی

 

ہمیں بھی حضوری کا موقع ملے

اگر ہو عنایت حضورؐ آپؐ کی

 

غریبوں یتیموں کے دن پھر گئے

ملی جب محبت حضورؐ آپؐ کی

 

عطا کم نہیں ہے یہ اشفاقؔ پر

یہ کرتا ہے مدحت حضورؐ آپؐ کی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

محمد مصطفیٰ سالارِ دیں ہیں
سوچتے سوچتے جب سوچ اُدھر جاتی ہے
وہ جو قرآن ہو گیا ہوگا
کوئی مثل مصطفیٰ کا کبھی تھا نہ ہے نہ ہوگا
آخری عکس
رکھا بے عیب اللہ نے محمد کا نسب نامہ​
حقیقت میں تو اس دنیا کی جو یہ شان و شوکت ہے
نبی کی نعت پڑھتا ہوں کہ ہے یہ دل کشی میری
ذاتِ والا پہ بار بار درود
نہ ہو آرام جس بیمار کو سارے زمانے سے

اشتہارات