اردوئے معلیٰ

مل گئی جب گلی مدینے کی

مل گئی جب گلی مدینے کی

آرزو بڑھ گئی ہے جینے کی

 

جو اطیعو الرسول میں گزرے

ہے وہی زندگی قرینے کی

 

نعت کا فیض بھی ملا مجھ کو

یہ نوازش بھی زندگی نے کی

 

آپ ہیں انتہا نبوت کی

اس کی تصدیق ہر نبی نے کی

 

اب تو ہو جائے اِک نگاہِ کرم

اب تو بجھ جائے آگ سینے کی

 

ناخدا جس کے آپ ہوں آقا

فکر کیا ہو اُسے سفینے کی

 

میرے اپنے خیال میں اشعرؔ

نعت کہنا بھی ہے بڑی نیکی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ