مل گئی جب گلی مدینے کی

مل گئی جب گلی مدینے کی

آرزو بڑھ گئی ہے جینے کی

 

جو اطیعو الرسول میں گزرے

ہے وہی زندگی قرینے کی

 

نعت کا فیض بھی ملا مجھ کو

یہ نوازش بھی زندگی نے کی

 

آپ ہیں انتہا نبوت کی

اس کی تصدیق ہر نبی نے کی

 

اب تو ہو جائے اِک نگاہِ کرم

اب تو بجھ جائے آگ سینے کی

 

ناخدا جس کے آپؐ ہوں آقاؐ

فکر کیا ہو اُسے سفینے کی

 

میرے اپنے خیال میں اشعرؔ

نعت کہنا بھی ہے بڑی نیکی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سرعرش انھیں جلوہ گر دیکھتے ہیں
دلوں کے گلشن مہک رہے ہیں یہ کیف کیوں آج آ رہے ہیں
رہِ شریعت پر آ رہے ہیں قدم اپنا بڑھا رہے ہیں
سر بہ سر مصحفِ انوار کوئی اور نہیں
نبی کا نام جب میرے لبوں پر رقص کرتا ہے
جب حسن تھا ان کا جلوہ نما انوار کا عالم کیا ہوگا
ہے نرالے جوش پر کچھ آج فیضانِ رسول
حَبس بڑھنے لگا ' سانس گُھٹنے لگی ' یا نبیؐ ' یا نبیؐ
عطاۓ ربّ ہے جمال طیبہ
آپ کا نامِ نامی ہے وردِ زباں ہے مِرے دل میں ہے بس آرزو آپ کی