اردوئے معلیٰ

منزلِ راہِ عشق کا ہم کو پتہ دیا کہ یوں

آقا نے اپنے لطف سے رستہ دکھا دیا کہ یوں

 

سربستہ جو نکات تھے اُن سب کی شرح ہو گئی

پردہ ہر ایک راز سے یکسر اُٹھا دیا کہ یوں

 

حیراں تھے سب بلندی و پستی ہوں ساتھ کس طرح

شاہ و گدا کو آپ نے ساتھ میں لا دیا کہ یوں

 

محکم ہے ربط خالق و مخلوق میں تو آپ سے

عالمِ ناشناس کو درسِ وفا دیا کہ یوں

 

رب نے بتائی آپ کی چوکھٹ کی شان و مرتبت

روضہء خلد کو وہیں لا کر بسا دیا کہ یوں

 

وجہِ سرورِ بندگی پوچھا کسی نے مجھ سے جب

سنگِ درِ نبی پہ سر میں نے جھکا دیا کہ یوں

 

ہم انتہائے قرب کی منزل پہ یوں پنہچ گئے

پاس بلایا پھر ہمیں در پر بٹھا دیا کہ یوں

 

جود و سخا کہیں اِسے بذل و عطا کہیں اِسے

جتنی طلب تھی قلب میں اُس سے سوا دیا کہ یوں

 

بخشش کی فکر تھی ہمیں عرصۂ حشر میں مگر

جلوہ گری نے آپ کی مژدہ سنا دیا کہ یوں

 

آقا سے مجھ غُلام کی نسبت بیان ہو تو کیا

نعتِ نبی میں حالِ دل لکھ کر بتا دیا کہ یوں

 

عارفِؔ بے نوا کی اِس طرزِ نوا کی دھوم ہے

آپ کے در سے کیا ملا آپ نے کیا دیا کہ یوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات