منزلِ عشق میں خطراتِ بہر گام نہ دیکھ

منزلِ عشق میں خطراتِ بہر گام نہ دیکھ

حسنِ آغاز مبارک تجھے انجام نہ دیکھ

 

صاعقے، موجۂ صر صر، قفس و دام نہ دیکھ

عزمِ تزئینِ گلستاں ہے تو آرام نہ دیکھ

 

تیرگی بڑھ لے تو کچھ اور فروزاں ہوں گے

تابِ داغِ دلِ پُر درد سرِ شام نہ دیکھ

 

ایک ساعت بھی خوشی کی نہ میسر آئی

اس توجہ سے مجھے گردشِ ایام نہ دیکھ

 

صبحِ روشن ہے تعاقب میں تجھے ہو مژدہ

ہم نفس ظلمت و افسردگئ شام نہ دیکھ

 

داغِ دل، سوزِ جگر، رنج و الم، بیتابی

دیدنی کب ہے نظرؔ عشق کا انجام نہ دیکھ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جب خزاں آئے تو پتّے نہ ثَمَر بچتا ھے
لرزتے جسم کا بھونچال دیکھنے کے لیے
جہانِ فن میں دُور دُور تک برائے نام ہو
وہ میرے پاس آ کے حال جب معلوم کرتے ہیں
باجرے کی جو اک خشک روٹی ملی
عشق سے پہلے بُلاتا تھا میں تُو کر کے اُسے
کیا مرے دکھ کی دوا لکھو گے
کہیں بھڑکا ہوا شعلہ کہیں پر پھول فن میرا
نا رسائی کی تکالیف اُٹھاؤ کب تک
اُڑتے ہوئے غبار میں اجسام دیکھتے