اردوئے معلیٰ

منزلِ قرب خدا میں وہ وہاں تک پہنچے

 

منزلِ قرب خدا میں وہ وہاں تک پہنچے

فاصلے گھٹ کے جہاں دو ہی کماں تک پہنچے

 

نورِ سرکارِ دو عالم کو پکارا میں نے

جب اندھیروں کے قدم وادیٔ جاں تک پہنچے

 

کاسۂ جاں کو اُجالوں سے وہ بھر کر لوٹے

جو گدا اُن کے درِ فیض رساں تک پہنچے

 

روشنی گنبدِ خضرا کی ملی ّجنت میں

شہر طیبہ ترے انوار کہاں تک پہنچے

 

پا شکستہ ہے غلام اور سفر ہے دشوار

ہو کرم آپ کا تو شہرِ اماں تک پہنچے

 

ایک اک گام پہ روشن کرو مدحت کے چراغ

نعت کی روشنی پھیلاؤ جہاں تک پہنچے

 

جب بھی آیا صبیحؔ اسمِ محمد لب پر

قافلے حرف کے معراجِ بیاں تک پہنچے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ