منزل کا رہنما ہے نشاں راستی کا ہے

 

منزل کا رہنما ہے نشاں راستی کا ہے

ہر نقش پا نبی کا دیا رہبری کا ہے

 

وہ شہر علم و فضل وہ معراجِ فکر و فہم

محور اسی کی ذات ہر اک آگہی کا ہے

 

انسانیت کا اوج ہے معراجِ مصطفیٰ

یہ روشنی کی سمت سفر روشنی کا ہے

 

دل میں بسی ہے کیفِ حضوری کی آرزو

مدت سے منتظر یہ گدا حاضری کا ہے

 

کاسے میں میرے حرف شفاعت کو ڈال دیں

سرکار یہ سوال ہر اک اُمتی کا ہے

 

جلنے لگے ہیں میری نوا میں چراغ سے

جب سے لبوں پہ اسم گرامی نبی کا ہے

 

صد شکر اے صبیحؔ کہ توصیفِ مصطفیٰ

عنواں مرے ادب کا مری شاعری کا ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ