اردوئے معلیٰ

’’منظور تھی جو شکل تجلی کو نور کی‘‘

’’منظور تھی جو شکل تجلی کو نور کی‘‘

وہ شکل دل نواز تھی قسمت حضور کی

 

گھونگھٹ میں کنت کنزل کے شرما رہے تھے کیوں

پیش نظر ضرور تھی صورت حضور کی

 

تخلیق کائنات کا باعث حضور ہیں

تزئین کائنات ہے بعثت حضور کی

 

رنگ بہار گلشن ہستی کی تازی

سنت حضور کی ہے شریعت حضور کی

 

کہتا ہے جس کو لہجہ جبریلؑ الکتاب

تصنیف ہے خدا کی اشاعت حضور کی

 

ان کو بھی اپنے دامن رحمت میں لے لیا

جن کی سرشت میں تھی عداوت حضور کی

 

خوان کرم ہے ان کا کلوا و اشربوا اگر

لا تسرفوا ہے طرز معیشت حضور کی

 

’’خواہش کو احمقوں نے پرستش دیا قرار‘‘

کرتا ہے کون شخص عبادت حضور کی

 

وہ زندگی جو خدمت دیں کے لیے ہو وقف

وہ زندگی ہے نذر عنایت حضور کی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ