مولا یا صل ِ وسلم ۔ قصیدہء بردہ شریف ۔ اب اردو زبان میں

مولا یا صل ِ وسلم ۔قصیدہء بردہ شریف ۔ اب اردو زبان میں
عاشق ِ رسول ِمقبول حضرت امام محمدشرف الدین بوصیری رحمۃ اللہ علیہ کامدحیہ شاعری میں ایک ایسا نام ہے کہ ان کے ذکرِ خیر کے بغیر نعتیہ ادب کی تاریخ مکمل نہیں ہوسکتی۔اور بلاشبہ آپ نے ایک ایسا معرکۃ الآرا قصیدہ تخلیق کیا ، جس کی گونج صدیاں گزرجانے کےباوجود دیس دیس میں آج بھی سنائی دے رہی ہے ۔جی ہاں ، یہ ذکر ہے قصیدہء بردہ شریف کا ۔ یہ وہی قصیدہء بردہ شریف ہے ، جسے عالم ِ رویا میں سن کر حضور علیہ الصلواۃ و والسلام جھوم اُٹھے تھے اور خوش ہو کر امام شرف الدین بوصیری کو اپنا بردہ شریف {یعنی اپنی چادر ِ مبارک } عطا فردیاتھا ۔ یہ بات خواب کی ہے لیکن جب شرف الدین محمد بوصیری بیدار ہوئے تو نبیء رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا بردہ شریف ان کے جسم پر تھا ۔ یہ قصیدہ انہوں نے فالج میں مبتلاء ہونے کی بناء پر اس اذیت ناک بیماری سے مکمل نجات کیلئے لکھا تھا ، اس لئے صبح آنکھ کھلی تو حضور نبی ء کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نگہ ِ کریمانہ اور ان کی خلعت ِ فاخرانہ کی برکت سے انہیں فالج سے چھٹکارہ مل چکاتھا ۔ یہیں سے امام شرف الدین محمد بوصیری رحمۃاللہ علیہ اور ان کے قصیدہء بردہ شریف کو شہرت ِ دوام ملی ۔
عالم ِ اسلام کے اس عظیم المرتبت شاعر شرف الدین محمد بوصیری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت یکم شوال608ھ یا610ھ (1211ء) کو مصر کے ایک گاؤں بوصیر میں ہوئی ۔نسلاً بربر تھے ۔بردہ عربی زبان میں چادر ،عبا، کسا،رِدا اور اوڑھنی کو کہتے ہیں اور نبیء رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیونکہ آپ کواپنا بردہ شریف بطور انعام مرحمت فرمایاتھا، اسی لئے اس معرکۃ الآرا قصیدے کو قصیدہ ء بردہ شریف کے نام سے شہرت اورمقبولیت مل گئی۔اہل ِ ادب اسےقصیدہ ء میمیہ بھی کہتے ہیں۔
مولا یا صل ِ وسلم ۔ شہرہ ء آفاق قصیدہ ء بردہ شریف کے تراجم بہت سی زبانوں میں ہوچکے ہیں ۔ ایک اور نامورعاشق ِ رسول ِ مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ ِ وسلم حضرت مولانا عبدالرحمان جامی رحمۃ اللہ علیہ نے فارسی زبان کےقالب میں اسے ڈھال کردھوم مچادی تھی ۔اروو زبان میں بھی اس شہرہء آفاق قصیدے کے تراجم کئے گئے لیکن اب خانوادہ ء چشت کے سپوت اورقادرالکلام شاعر سید عارف معین بلے نےاس قصیدہء بردہ شریف کے ایک ایک شعر کااردو زبان میں منظوم ترجمہ کیا ہے ۔یہ اپنی نوعیت کا منفرد کام ہے ۔ سید عارف معین بلے نے اپنی قادرالکلامی اور جمالیاتی اسلوب کے جوہر امام بوصیری رحمۃ اللہ علیہ کی زمین ہی میں دکھائے ہیں ۔ انہوں نے صرف ترجمہ ہی نہیں کیا بلکہ امام بوصیری کے جذبوں کی ترجمانی بھی کی ہے ۔یہ قصیدہ غیر مردف ہے ۔ اس لئے عارف معین بلے نے بھی اسے غیر مردف ہی رہنے دیاہے۔ امام شرف الدین بوصیری نے جو قوافی منتخب کئے ،سیدعارف معین بلے نے انہیں بڑی مہارت کے ساتھ برتا ہے ۔مصر کے عظیم المرتبت شاعر حضر ت شرف الدین بوصیری رحمۃ اللہ علیہ نے عربی زبان میں یہ قصیدہء بردہ شریف لکھاتھا۔ مولانا عبدالرحمان جامی رحمۃ اللہ علیہ نےاسے فارسی زبان میں رنگ دیا ۔ جبکہ سید عارف معین بلے نے اردو زبان میں اپنے جوہر اور رنگ دکھائے ہیں ۔اسی لئے انہوں نے اپنی کاوش کو خوبصورت نام اور عنوان دیا ہے یعنی "قصیدہء بردہ شریف اب اردو زبان میں”۔
——
یہ بھی پڑھیں : قصیدۂ بردہ شریف کا قصیدہ
——
اس حقیقت سےانکار نہیں کہ اب تک عربی اور فارسی پڑھنے اور سمجھنے والے ہی امام شرف الدین بوصیری رحمۃ للہ علیہ کےقصیدہء بردہ شریف سےفیض یاب ہوتے رہے ہیں لیکن اب سیدعارف معین بلے کی اس قابل ِ قدر کاوش کے نتیجے میں اردو پڑھنے اور سمجھنے والے بھی قصیدہء بردہ شریف کےمزے لوٹ سکیں گے۔اس میں چھپے ہوئے مفاہیم و معانی کے جہان دریافت کرسکیں گے ۔ کوتاہی ہوگی اگر ان حواشی کاذکر نہ کیاجائے ، جو سیدعارف معین بلے نے منظوم لکھے ہیں ۔ قصیدہء بردہ شریف میں امام شرف الدین محمد بوصیری نے جن مقامات،شخصیات یاعمارات کاتذکرہ کیا ہے ، سید عارف معین بلے نے اپنے منظوم حواشی میں ان کی تاریخی اہمیت کواجاگر کیاہے۔ اس کاوش کے نتیجے میں قصیدے کی تفہیم آسان ہوگئی ہے ۔ حواشی منظوم لکھنے کاتجربہ منفردبھی ہے اورانوکھابھی اوربلاشبہ یہ سید عارف معین بلے ہی کاخاصا ہے ۔بڑی بڑی کاوشیں میری نظرسے گزری ہیں لیکن کسی نے منظوم حواشی لکھنا تودورکی بات ہے ، لگتاہے یہ تجربہ کرنے کا سوچاتک نہیں ۔
امام محمد شرف الدین بوصیری رحمۃ اللہ علیہ سلسلہ شاذلیہ میں شرف بیعت سے مشرف ہوئےتھے جبکہ سیدعارف معین بلے خواجہ ء خوجگاں حضرت معین الدین چشتی سنجری اجمیری کی اولاد ِ امجاد میں سے ہیں اور اس سے پہلے بھی مدحیہ شاعری میں اپنے کمالات کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں ۔انہوں نے قصیدہ بردہ شریف کےحوالے سے بھی بڑا تاریخی کام کیاہے۔اسی معرکۃ الآرا قصیدے کی زمین میں انہوں نے بڑی خوبصورت نعتیں تخلیق کی ہیں ۔خاتم النبیین، امام المرسلین اور محبوبِ رب العالمین حضرت محمد مصطفیٰ،احمد ِ مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کاسراپائےمبارک بڑے دلنشیں پیرائے میں بیان کرنے کے بعد قصیدہ ء بردہ شریف ہی کی زمین میں سید عارف معین بلے نے مظہراول ، مرسل ِ خاتم ،شہنشاہ ِ عرب اور سلطان العجم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان کی عظمت و جلالت کو محبت و عقیدت کے رنگارنگ پھول پیش کئے ہیں ۔ اہم اور قابل ِ ذکربات یہ بھی ہے کہ سید عارف معین بلے نے اپنے فکرو خیال کی روشنی قرآن و احادیث ِ نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کشید کی ہے ۔جس سے ان کے علمی تبحر ، ترفع ِ فکری اورتعمق ِ تخیل کابھی پتا چلتاہے ۔اردوئے معلیٰ سید عارف معین بلے کی ان شعری کاوشوں کو اپنے سامعین کرام کے ذو ق وشوق کی تسکین کےلئے اپنے صفحات کی زینت بنارہاہے اور ہم اس سلسلے کو انشااللہ العزیز جاری بھی رکھیں گے ۔ فی الحال آپ ملاحظہ فرمائیے معرکۃ الآرا "قصیدہ ء بردہ شریف اب اردو زبان میں” ۔یہ کاوش بلاشبہ سیدعارف معین بلے کی ہے۔ہمیں یقین ہے کہ قصیدہء بردہ شریف کی طرح اس شعری کاوش کو بھی بارگاہ رسالت پناہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں شرف ِ قبولیت حاصل ہوگا اور اردو پڑھنے اور سمجھنےوالوں کو ان کی پسندیدہ مدحیہ شاعری ان کی اپنی زبان میں دستیاب ہونے سےروحانی خوشی بھی میسر آئے گی
(اردوئے معلیٰ)
——
اب آئیے اردو میں منظوم قصیدۂ بردہ شریف کا لطف لیتے ہیں
(1)
جَل اُٹھی کیا شمعِ یادِ دوستانِ ذی سَلَم
خونِ دل بہنے لگا آنکھوں سے میری ایک دم
(2)
جھونکا کوئے کاظمہ سے آیا ہے یا پھر حضور
بجلی چمکی، ہوگیا روشن شبستانِ اِضَم
(3)
ہو گیا کیا؟ جو تری آنکھوں سے جاری ہے جھڑی
کیا ہوا ہے؟ دل پہ کیا ٹوٹا تِرے کوہِ ستم
(4)
چُھپ نہیں سکتی محبت، ہے عبث تیرا خیال
ہے ترے سوزِ دروں کا آئینہ یہ چشمِ نم
(5)
سوزِ دل نے ہی رُلایا قریہء برباد پر
ورنہ کب بے تاب کر سکتےغمِ بان و عَلَم
(6)
تو محبت سے کرے انکار ممکن ہی نہیں
بولتا ہے چہرہ، دیتی ہے گواہی چشمِ نم
(7)
ناتوانی، اشک افشانی دلیلِ عشق ہے
زرد ہے چہرہ توخونِ دل سے یہ آ نکھیں ہیں نم
(8)
جب خیالِ یار آیا رات آنکھوں میں کٹی
عشق نے سارا مزہ ہی کر دیا ہے نذرِ غم
(9)
اے مرے ناصح تو میری معذرت کر لے قبول
تو اگر منصف ہے تو مت توڑ اب مجھ پر ستم
(10)
ہیں سبھی واقف مرے احوال سے تیرے سوا
درد جو دل میں اُٹھا ہے، ہو نہیں پائے گا کم
(11)
وہ نصیحت خوب تھی پَر اس کا سُننا تھا محال
اِس محب کی ہو گئی رخصت سماعت ایک دم
(12)
سچا ناصح ہے بڑھاپا، میں نے کب اس کی سنی؟
جب نصیحت ہو ضعیفی ہے مُعریٰ از تہم
(13)
بد نصیبی! نفسِ اماّرہ نے اِس کو رد کیا
تھی مری پیرانہ سالی کی نصیحت محترم
(14)
میزبانی ہی نہ کر پایا مرا حسنِ عمل
سر پہ آ پہنچا ہے مہمانِ ضعیفی ایک دم
(15)
مجھ پہ کُھل جاتی اگر توقیر اس مہمان کی
کالی مہندی سے میں سر کے بال رنگتا دمبدم
(16)
ہے کوئی جو نفسِ سرکش کو لگامیں ڈال دے
گھوڑے کی جیسے طنابیں کھنچتی ہیں بس ایک دم
(17)
نفس کا تو ہو نہیں سکتا گناہوں سے علاج
ہَوکا بڑھ جائے تو پُر ہو ہی نہیں سکتا شِکم
(18)
نفس میں اور ایک بچے میں نہیں ہے کوئی فرق
روک کر ہی شیر خواری کو چھڑا سکتے ہیں ہم
(19)
قابو پالے نفس پر، تو فرمانبرداری نہ کر
ورنہ مٹ جائے گا یا پھر عیب کچھ ہوں گے نہ کم
(20)
رشتہ اب حسنِ عمل کا خود نمائی سے نہ جوڑ
دور رکھ ہر اک چرا گاہِ عمل سے تو قدم
(21)
روغنی ہر اِک غذا میں، خوب تھا بے شک مزہ
کاش! تو یہ جانتا شوگر میں بھی مخفی ہے سَم
(22)
ہو شکم سیری یا فاقہ، مکر سے تو اِن کے ڈر
فاقہ مستی بھی شکم سیری سے بڑھ کر کب ہے کم؟
(23)
اپنی آنکھوں سے گناہوں کو تُو اپنے پاک کر
بہنے دے اپنی پشیمانی کے آنسو دم بہ دم
(24)
نفس اور شیطان دشمن ہیں، کہے میں تو نہ آ
جھوٹ ہیں دونوں، نصیحت ان کی سچی بھی تہم
(25)
یہ ترے دشمن ہوں یا حاکم، اطاعت تو نہ کر
مکران کا جان لے،ہے ایک دشمن، اِک حَکَم
(26)
توبہ استغفار قولِ بے عمل سے اے خدا
بانجھ عورت ہے، امید اولاد کی رکھتے ہیں ہم
(27)
ہے نصیحت نیکیوں کی، خود مگر اس سے ہیں دور
کیا کرے گا کوئی ،جبکہ خود نہیں کرتے ہیں ہم
(28)
آخرت کا کیا کیا سامان ؟ کچھ بھی تو نہیں
فرض روزوں اور نمازوں کے سوا خالی ہیں ہم
(29)
سنتِ خیر الوریٰ پر ظلم ہی میں نے کیا
رات بھر جن کی عبادت سے تھا پیروں پر وَرَم
(30)
ہائے راہِ حق میں جب فاقوں پہ نوبت آ گئی
باندھے پتھر پیٹ سے اور بانٹے دِینار و دِرم
(31)
سونے کے چل کر پہاڑ آئے کہ حاضر ہیں حضور
کر دیا ان کو نظر انداز، کیا، یہ کچھ ہے کم؟
(32)
زہدو تقویٰ کر دیا حاجات نے مضبوط تر؟
غالب آئے کیسے حاجت آپ پر شاہِ اُمم
(33)
کیسے حاجت ان کو دنیا کی طرف مائل کرے
وہ نہ ہوتے تو یہ دنیا کا وجود ہوتا عدم
(34)
آپ ہیں سردارِ دو عالم محمد مصطفیٰ
اِنس و جاں کیا؟ آپ ہیں شاہِ عرب، شاہِ عجم
(35)
آمر و ناہی پیمبر آپ یکتا، لاجواب
سچے ہر اِک قول میں، میرے رسولِ محترم
(36)
وہ حبیبِ پاک ہیں بے شک شفاعت کی امید
ہوں گے جب ہم خوفِ محشر سے گرفتارِ الم
(37)
آپ کی دعوت پہ رسی ،جس نے حق کی تھام لی
یہ کبھی رسی نہ ٹوٹے گی نبی ء محتشم
(38)
خُلق میں اعلیٰ ہیں بے شک‘ خَلق میں برتر حضور
سارے نبیوں سے ہے بڑھ کر آپ کا عِلم و کرم
(39)
ملتمس ہیں انبیاءسب آپ کے دربار میں
چُلّو ساگر سے ملے،اِک بوند از ابرِ کرم
(40)
اپنی حد میں ہیں کھڑے سب انبیا پیشِ حضور
حرف کے نقطے وہ، یہ علمِ کتابِ مختتم
(41)
صورت و سیرت میں سب سے برتر و اعلیٰ حضور
یوں بھی ہیں باری تعالیٰ کے حبیبِ محترم
(42)
ان کے اوصاف و محاسن میں نہیں کوئی شریک
مل نہیں سکتا کسی کو جوہرِ شاہِ اُ مم
(43)
ابنِ مریم کے لیے جو کچھ نصاریٰ نے کہا
وہ نہیں، پر دل سے کر مدحِ نبیِ ء محتشم
(44)
ہر شرف کو ذاتِ بابرکات سے منسوب کر
منزلت درکار ہے تو شان کر اُن کی رقم
(45)
کوئی بھی تو حد نہیں مولا کے علم و فضل کی
وہ کہاں سے لائیں منہ، جو کر سکیں توصیف ہم
(46)
آپ کی عظمت کے شایاں معجزے ہوتے اگر
نام پر جی اُٹھتیں خستہ ہڈیاں شاہِ اُمم
(47)
عقل کو بھی آزمائش سے بچایا آپ نے
یہ کرم ہوتا نہ تو تشکیک سے بچتے نہ ہم
(48)
معنی ء قرآں کُھلے ہیں، ساری دنیا دنگ ہے
دیکھی ہیں جب سے صفاتِ سیدِ خیرالامم
(49)
آپ ہیں سورج کہ جو چھوٹا سا آتا ہے نظر
دیکھیں جب اس کی طرف، خیرہ ہوں آنکھیں ایک دم
(50)
دنیا والے پائیں گے کیسے حقیقت آپ کی؟
غفلتوں میں پڑ گئے ہیں، قومِ خوابیدہ ہیں ہم
(51)
انتہائے علم بس یہ ہے، وہ ہیں خیر البشر
ساری مخلوقات سے بہتر رسولِ محتشم
(52)
انبیاءو مرسلیں کے معجزے بھی خوب تھے
آپ ہی کا نور تھا، یہ آپ ہی کا تھا کرم
(53)
انبیاءبے شک ستارے، آپ سورج فضل کا
روشنی سیارگاں کی آپ کا نور و کرم
(54)
نکلا جب سورج تو سارا جگ ہی روشن ہو گیا
آپ ہی کے نور سے جی اٹھی ہے ہراک امُم
(55)
اللہ اللہ کیا؟ عظیم الخق ہیں خیر البشر
ہے جمالِ مصطفی میں سیرت و صورت بہم
(56)
غنچہ آسا تازگی میں ہیں، شرف میں ماہتاب
ہمت و جرا ت میں یکتا، دریا دل ، بحرِ کرم
(57)
ہیں جلالت میں یقیناً آپ خود اپنی مثال
تنہا بھی ہوں تو نظر آتا ہے لشکر کا حَشَم
(58)
سیپ میں موتی کی طرح آپ کے دندانِ پاک
معدنِ نطق و تبسم ، چہرہ ء شاہِ اُ مم
(59)
جاگ اٹھے بخت اس کا، جو بھی اس کو چوم لے
بوئے خاکِ پاکِ دربارِ رسولِ محترم
(60)
کُھل گئے دنیا پہ میلاد النبی سے وصف سب
پاک ہے آغاز ان کا، پاک ان کا مختتم
(61)
اہلِ فارس ڈر گئے سن کر ولادت کی خبر
اُڑ گئے ہیں ہوش، ان پر چھا گیا ہے ابرِ غم
(62)
ڈھے گیا ہے قصرِ ِکسریٰ، کرچی کرچی ہو گیا
ہو گئے اصحابِ کسریٰ منتشر پھر ایک دم
(63)
آتشِ فارس بھی ٹھنڈی پڑ گئی، یہ کیا ہوا؟
کر گیا ہے چشمہ ء آبِ رواں کو خشک غم
(64)
خشک پنگھٹ دیکھ کر ہیں مضطرب ساوہ کے لوگ
پیاسے لوٹے ہیں، غم و غصہ کہاں ان کا ہے کم
(65)
غم کے مارے آگ بھی تو ہو گئی تھی آب آب
ہو گیا پانی بھڑک کر آگ ہی از سو ز و غم
(66)
لشکرِ شیطاں بِلک اُٹھا تجلی دیکھ کر
معنی و کلمات سے ظاہر ہوا حق دم بہ دم
(67)
اندھے بہرے تھے بشارت کیسے پھر سنتے بھلا
دیکھتے کیسے بھلا؟ تخویفِ برق از رنج و غم
(68)
کاہنان ِ دہر نے بس اتنی ہی دی تھی خبر
جتنے ہیں ادیانِ باطل، ہو گئے سب کالعدم
(69)
آسماں سے ٹوٹتے تارے بھی پھر دیکھے گئے
گر پڑے اوندھے زمیں پر، سرنگوں ہو کر صنم
(70)
یوں وحی کے راستے سے بھاگ اُٹھے شیطاں سبھی
پڑ رہے ہیں آگے پیچھے ایک دوجے کے قدم
(71)
ابرہہ کا تھا وہ لشکر ، یا وہ کوئی فوج تھی
آپ نے پھینکی تھیں کنکریاں رسولِ محترم
(72)
آپ نے تسبیح پڑھ کر پھینکا جو کنکر حضور
پیٹ سے مچھلی کے باہر آئے یونس ایک دم
(73)
سجدہ کرتے آپ کی دعوت پہ آئے ہیں شجر
یہ تنوں کے بل چلے، جیسے نہ ہوں ان کے قدم
(74)
خوب کھینچیں چل کے دھرتی پر درختوں نے سطور
ڈالی ڈالی نے بھی ڈالے رستے میں کچھ پیچ و خم
(75)
چلچلاتی دھوپ میں سایہ فگن ہے آپ پر
ابر بھی ہراِک سفر میں آپ کاہے ہم قدم
(76)
آپ کے قلبِ منور کو ہے نسبت چاند سے
جو کیا تھا شق ، میں اس کی سچی کھاتا ہوں قسم
(77)
آنکھ کے اندھے تھے جب کفار، کیسے دیکھتے؟
ہے قسم کہ غار میں محفوظ تھے خیرو کرم
(78)
صدق اور صدیق دونوں غار میں محفوظ تھے
غار میں کوئی نہیں، کفار بولے ایک دم
(79)
جالا مکڑی کا، کبوتر کے یہ انڈے دیکھ لو
سوچا ہو سکتے نہیں، اس میں رسولِ محترم
(80)
ہاں زرہ، اونچے قلعوں کی ہر سہولت بخش کر
کی حفاظت آپ کی رب نے نبی ء محتشم
(81)
جب ستم دنیا نے توڑے، میں پکارا "المدد”
آپ نے بخشی اماں، ہے آپ کا لطف و کرم
(82)
دین و دنیا میں نے کی،دستِ نبوت سے طلب
جو بھی کچھ مانگا ملا،ہے آپ کا یہ بھی کرم
(83)
خواب میں بھی تو وحی آتی تھی مت انکار کر
خواب میں بیدار رہتا تھا دلِ شاہِ امُم
(84)
خواب بھی ہوتے ہیں سچے،ہے نبوت کا کمال
کر نہ سچے خواب کا انکار،مت کر یہ ستم
(85)
بارک اللہ اکتسابی ہو نہیں سکتی وحی
غیب داں ہوتا نہیں، کوئی نبیِ ء محترم
(86)
چھو لیا دستِ مبارک سے تو بیماری گئی
بھاگ اٹھی دیوانگی، ہے آپ کا یہ بھی کرم
(87)
قحط سالی ہو گئی کافور، فصلیں جی اُٹھیں
آپ کی بس اِک دعا سے برسا ہے ابرِ کرم
(88)
ٹوٹ کر برسے ہیں بادل، ہو گیا جل تھل حضور
ندیاں چھلکی ہیں اور آیا ہے سیلابِ عَرَم
(89)
میں بیاں کیسے کروں اوصافِ آیاتِ مُبیں
وہ شبِ تاریک میں مشعل نما ہیں اِ ک عَلَم
(90)
اک لڑی میں موتیوں کا حسن بڑھ جاتا ہے پر
قدرو قیمت جب یہ بکھری ہوں تو کب ہوتی ہے کم؟
(91)
اس لیے بھی حقِ مدحت ہو نہیں سکتا ادا
عقل سے بالا ہیں اخلاقِ رسولِ مختتم
(92)
ہیں مرے رحمان کی آیاتِ حق سب لاجواب
ہے قدیم اس کی صفت، بے شک وہ موصوفِ قدم
(93)
عہدِ رفتہ سے نہیں نسبت ، پر عبرت کیلئے
حال عقبیٰ کا سنائیں قصہ ء عاد و اِرم
(94)
انبیاءکے معجزے سب، اِس طرف قرآن پاک
دائمی بھی وہ نہیں ہیں اور اس سے بھی ہیں کم
(95)
کوئی بھی تو شک نہیں‘ آیاتِ محکمات میں
دیکھئے قرآن ِ ناطق ہے کہ وہ ہیں خود حَکَم
(96)
دشمنی میں جس نے بھی قرآن کی کھولا محاذ
زندہ رہنے کو کیا اس نے سرِ تسلیم خم
(97)
جو کئے دعوے بلاغت کے،غلط ثابت ہوئے
باقی جانی دوست غیرت مند ہیں اہلِ حرم
(98)
موجزن دریا بھی ہے اب گوہرِ قرآں کے ساتھ
قدرو قیمت میں یقیناً گوہرِ دریا ہے کم
(99)
جو عجائب ان میں مخفی، ان کی گنتی ہے محال
جتنا چاہے فیض پاؤ، شوق کب ہوتا ہے کم
(100)
آنکھوں کو ٹھنڈک ملی، قاری سے میں نے کہہ دیا
تھام رسی رب کی، ہو گی فتح تیری ہم قدم
(101)
ہو اگر دوزخ کا ڈر اور تو اسے پڑھ لے اگر
آتشِ دوزخ یقیناً اس سے ہو جائے گی کم
(102)
حوضِ کوثر کی طرح دھو دے گی تیرے سب گنہہ
آئے گی چہرے کی کالک پر سفیدی ایک دم
(103)
عدل کی وہ ہیں ترازو، راستہ سچائی کا
کب بھلا ان کے بغیر انصاف کر سکتے ہیں ہم
(104)
جو بھی حاسد اب کرے انکار مت حیران ہو
ہے تجاہل عارفانہ ورنہ ،ہے کب فہم کم
(105)
آنکھیں آئی ہوں تو دیکھیں کیسے نورِ آفتاب
میٹھا پانی کیا مزہ دے، ذائقے میں ہے سُقم
(106)
آپ ہیں ان سب سے اچھے حاضری دیتے ہیں جو
پا پیادہ یا سوار ِ اُشترانِ باد دم
(107)
معتبر ہو کوئی تو ہیں آیتِ کبریٰ حضور
نعمتِ عظمیٰ برائے مغتنم شاہِ امم
(108)
گھومتا پھرتا ہے جیسے بدر ِ کامل رات بھر
مسجدِ اقصیٰ میں پہنچے آپ از بیت الحرم
(109)
ماورائے عقل ہے ان کا مقامِ ارجمند
فاصلہ تو رہ گیا ہے دو کمانوں سے بھی کم
(110)
مسجدِ اقصیٰ میں جا کے دیکھو، ہے مخدوم کون؟
مقتدی ہیں آپ کے سب انبیائے ذی حَشَم
(111)
آپ نے ہفت آسماں کی سیر کی نبیوں کے ساتھ
بھیڑ میں بے شک فرشتوں کی اُٹھایا ہے عَلم
(112)
کوئی پہنچا ہے نہ پہنچے گا جہاں پہنچے حضور
ہے بہشت و عرش بھی تو آپ کے زیرِ قدم
(113)
پہنچے ہیں اُس مرتبت پر سارے چھوٹے ہو گئے
آپ ہی بعداز خدا بے شک ہیں سب سے محترم
(114)
رازِ سر بستہ مقامِ وصل پر افشا کیے
کُھل گئے اسرارِ حق سب از رہِ فضل و کرم
(115)
سب فضائل آپ میں، جن میں نہیں کوئی شریک
عظمتوں میں آپ لاثانی ہیں یا شاہِ امم
(116)
ہیں عظیم الشان بے شک سب مراتب آپ کے
نعمتیں ہیں ماورائے عقل، کیا سمجھیں گے ہم
(117)
اے مسلمانو مبارک ہو، ملا ہے دیں تمہیں
تا اَبد رہنا ہے دینِ سیّدِ خیر الامم
(118)
حق تعالیٰ نے کہا ہے آپ کو خیر الرسل
آپ کی طاعت کے صدقے ہم ہوئے خیر الامم
(119)
دشمنوں کے ہل گئے دل، سن کے بعثت کی خبر
جس طرح چنگھاڑ سے سہمے ہرن بس ایک دم
(120)
کیا ہوئی غزوات میں کفار کی حالت نہ پوچھ
جسم کیا، وہ سر تھے نیزوں پر ہوئے تھے جو قلم
(121)
چاہتے تھے جنگ کی دہشت سے وہ راہِ فرار
نوچ لیں، چیلوں گِدھوں کی اب غذا بن جائیں ہم
(122)
سہمے سہمے بیت جاتی تھیں سبھی راتیں مگر
صرف ان راتوں کے،ہیں جن کے مہینے محترم
(123)
وہ سمجھتے تھے کہ دیں مہمان ان کے گھر کا ہے
چاہتے تھے دشمنوں کو نوچ ڈالیں مل کے ہم
(124)
لشکرِ دریا تھا سرپٹ دوڑتے گھوڑوں کے ساتھ
جنگ کے میدان میں ٹکراتی موجیں دم بہ دم
(125)
دعوتِ حق پر مجاہد آ گئے میدان میں
چاہتے ہیں کفر کی بنیاد کردیں کالعدم
(126)
کوششوں سے ان کی آخر دین، ملت بن گیا
بچھڑے ساتھی کیا ملے کہ ہو گئی غربت بھی کم
(127)
نیک شوہر مل گیا بیوی کو اور بچوں کو باپ
بیوگی کا دھڑکا ہے نہ اب یتیمی کا ہے غم
(128)
عزم و استقلال کی چٹّان تھے، میں کیا کہوں
پوچھ ان سے،جس نے دیکھی، ان کی جراتِ اَتَم
(129)
پوچھ لے بدر و حنین و اُحد سے، بتلائیں کیا
کافروں کو موت آئی جو وبا سے کب تھی کم
(130)
خونِ دشمن سے ہوئی تلوار ان کی سرخرو
کالے لمبے بال والوں کو دیئے کب زخم کم
(131)
دشمنوں کے جسم کو بے نقط کب رہنے دیا؟
لکھتے ہیں حرفِ غضب کیا خوب، نیزوں کے قلم
(132)
تھے مسلح، پر تھے پیشانی پہ سجدوں کے نشاں
تھے صحابہ گل تو ،کب کفار تھے کانٹوں سے کم
(133)
ان کی نصرت کی خبر پہنچی ہے اب تو جان لے
تھی بہارِ جادواں غنچوں کے پردوں میں بہم
(134)
جیسے ٹیلوں پر شجر ہوں یوں تھے گھوڑوں پر سوار
زین چاہے سخت ہے پر یہ تو ہیں ثابت قدم
(135)
اڑ گئے ہیں جنگ کے میدان میں دشمن کے ہوش
انساں اور چوپائے دونوں ایک ہیں تو کیا ہے غم
(136)
نصرتِ شاہِ دو عالم جس کو ہو جائے نصیب
شیر سے بھی سامنا ہو تونہیں مارے گا دم
(137)
دوست ان کا کوئی بھی ناکام ہو سکتا نہیں
دل شکستہ ہی رہے گا دشمنِ شاہِ اُمم
(138)
شیر جیسے اپنے بچوں کی نگہبانی کرے
آپ نے محفوظ یوں فرمائی ہے خیر الامم
(139)
دشمنوں کو خاک چٹوا دی کلام اللہ نے
اور دلائل نے کیا، ان کا سرِ تسلیم خم
(140)
معجزہ تو دیکھو وہ امی بھی ہیں ،عالم بھی ہیں
ہاں یتیمی میں ہنرور ہیں رسولِ محتشم
(141)
چھوڑ دی ہے شاعری اب دنیا داری کیلئے
کر رہا ہوں نعتِ سرکارِ دو عالم میں رقم
(142)
پٹہ گردن میں ہے، قربانی کا ہوں کیا جانور؟
ڈر رہا ہوں اپنے میں انجام سے اب دم بہ دم
(143)
بچپنے کی گمرہی سے کیا بھلا حاصل ہوا
دولتِ جرم و ندامت سے ہیں مالا مال ہم
(144)
دکھ ہے میرے نفس نے سودا خسارے کا کیا
دین کے بدلے خریدی دُنیا، یہ توڑا ستم
(145)
صرف دنیا کیلئے بیچی ہے جس نے آخرت
ہے نرا گھاٹے کا سودا اس کے حق میں کم سے کم
(146)
عاصی ہو کر بھی نہ توڑا آپ سے عہد ِ وفا
رسی میں نے تھام رکھی ہے رسولِ محترم
(147)
اس لیے بھی مجھ کو امیدِ شفاعت ہے حضور
نام میں میرے "محمد” ہے نبیء محتشم
(148)
روز ِ محشر ہاتھ گر تھاما نہ میرا آپ نے
بدنصیبی ہی مِری ہو گی اگر رَپٹا قدم
(149)
میں رہوں محروم یہ تو آپ کا منصب نہیں
خالی پلٹوں کیسے ممکن ہے نہ ہو مجھ پر کرم
(150)
ہو گئے ہیں وقف سب افکار مدحت کیلئے
آپ کے صدقے ہی ہر مشکل سے اب نکلیں گے ہم
(151)
آپ کے دستِ کرم کی برکتیں درکار ہیں
جس طرح گلشن بنا دے دشت کو ابرِ کرم
(152)
میں زُہیرِ وقت ہوں نےَ مجھ کو دولت چاہئیے
مال وزر اس نے سمیٹا بن کے مداح ِھَرَم
53) 1(
آپ سے بہتر نہیں کوئی تو میں جاﺅں کہاں
حادثوں سے اب بچا لیں،چھانٹ دیجے ابرِغم
(154)
منتقم بن کر خدا جب ہو گا جلوہ گر حضور
آپ کا رتبہ شفاعت سے میری ہوگا نہ کم
(155)
دین اور دنیا ہے کیا، یہ آپ ہی کی ہے عطا
آپ ہی کے علم سے ہے علم ِالواح و قلم
(156)
اے مرے دل ان گناہوں سے نہ تو مایوس ہو
مغفرت کے سامنے تو انتہائی ہیں یہ کم
(157)
جب بٹے گی رحمتِ رب مجھ کو یہ امید ہے
بڑھ کے ہو گا میرے عصیاں سے کہیں رب کا کرم
(158)
رد نہ کر دنیا مری امید کو ربِ جلیل
حشر میں رحمت اگر ہو تو نہیں ہے کوئی غم
(159)
دین و دنیا میں تو مجھ پہ لطف فرما اے خدا
صبر کا دامن چُھٹا جائے بصد درد و ا لم
(160)
حکم دیدے ابرِ رحمت کو مرے ربِ جلیل
تا ابد برسے نبی پر ٹوٹ کر ابرِ کرم
(161)
آل اور اصحاب کیا، سب تابعینِ پاک پر
رحمتیں ہر متقی، برصاحب ِ علم و کرم
(162)
یا اللہ راضی ہو بوبکر و عمر ، عثمان سے
اور علی سے ۔ ہیں جو، اصحاب ِ رسول ِ ذی حَشَم
(163)
ہاں یونہی کرتی رہے بادِ صبا اٹھکھیلیاں
مستی اونٹوں کی حُدی خوانی بڑھائے دمبدم
(164)
مغفرت فرمائیے، جس نے لکھا،اب جو پڑھے
آپ سے یہ التجا ہے صاحبِ جود و کرم
——
اب ملاحظہ فرمائیے منظوم حواشی ۔
——
قصیدہ ء بردہ شریف میں جن اہم اشخاص اور اماکن کاذکرکیاگیاہے، سید عارف معین بلے نے ان کےحواشی بھی منظوم لکھے ہیں ۔ یہ تمام حواشی بھی قصیدہء بردہ شریف کی زمین میں ہیں ۔اہم بات یہ ہے کہ مترجم نے یہ وضاحت بھی شعری پیرائے میں کی ہےکہ انہیں یہ حواشی لکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟۔ اب آپ سید عارف معین بلے کےمنظوم حواشی ملاحظہ فرمائیں۔ یہ پڑھ کر آپ کادل گواہی دےگا کہ اگر یہ اہتمام نہ کیاجاتا تو قصیدہ ء بردہ شریف کے مفاہیم و مطالب کوسمجھنا آسان نہ ہوتا۔
——
قصیدہء بردہ شریف کی حاشیہ آرائی کیوں؟
——
ذکر اشخاص و اما کن کا بھی ہے اس میں رقم
جن کے بارے میں یقیناً جانتے ہیں لوگ کم
ہے مقامات و اماکن کا تعارف ناگزیر
ذکر کن اشخاص کا ہے ؟،جاننا چاہیں گے ہم
یوں اٹھایا ہے قلم اب حاشیہ آرائی کو
کھل سکیں معنی ءنعتِ سیدِ خیر الامم
لفظ کے محمل میں لیلیءمعانی دیکھئے
آپ کہتے ہیں تو یہ پردہ ہٹا دیتے ہیں ہم
——
1 ۔ سَلَم۔ پہلا شعر
——
اس قصیدے میں کیا ہے آپ نے ذکر ِ سلَم
یہ سلم کیا ہے ، سنو وہ ہے مقامِ محترم
بارہا چومے نبی ءپاک کے جس نے قدم
ایک موضع ہے یہ مکہ اور مدینے کی قسم
بیٹھتے تھے جس کی چھاؤں میں نبیءمحتشم
پیڑ کیکر کا ہے ، جس کو لوگ کہتے ہیں سلم
استعارہ بھی یہ بے شک روضئہ اقدس کا ہے
ہاں جہاں آرام فرما ہیں رسولِ مختتم
بعض کہتے ہیں کہ ہے دارالسلام اس سے مراد
نسبتوں کا فیض ہے ، تاریخ کر دی ہے رقم
اس کی ٹھنڈی چھاؤں گھر بیٹھے بھی ہے اپنا نصیب
دھوپ ہو تو اس کے زیر سایہ ہی رہتے ہیں ہم
——
2 ۔ کاظمہ ۔ دوسرا شعر
——
یہ مدینے کی ہے بستی ، کاظمہ کہتے ہیں ہم
کاظمہ ہے اسمِ شہر ِ سیدِ خیر الامم
گنبدِ خضریٰ کو بھی لکھتے ہیں کچھ اہلِ قلم
جان کی تسکیں لُغت میں اس کامطلب ہے رقم
——
3 ۔ اِضَم ۔ دوسرا شعر
——
تذکروں میں نام ملتا ہے پہاڑی کا اِضم
جس پہ جلوہ فرما ہوتے تھے رسولِ محترم
بارہا چومے رسولِ پاک کے اس نے قدم
آپ ہی کے دم قدم سے اس کا ہے جاہ و حشم
سچ تو یہ ہے یہ پہاڑی ہے مدینے کے قریب
اِک ٹھکانہ ہے رسولِ پاک کا کوہِ اضِم
——
4 ۔ عذری۔ 9 واں شعر
——
اک قبیلہ ہے بنی عُذرہ چلو ملتے ہیں ہم
عشق میں گھل گھل کے آخر توڑ دیتے ہیں یہ دم
پارسا ہیں ، نرم خو ہیں ، خوش ادا ہیں خوش مزاج
یوں ہے عُذری کا اشارہ اس قصیدے میں رقم
——
5۔ کسریٰ ۔ 62 واں شعر .
——
کسریٰ یا خسرو ہی کہلاتے تھے سلطانِ عجم
دنیا میں تشریف جب لائے رسولِ محترم
ڈھہ گیا ایوانِ کسریٰ، ڈھیر ملبے کا بنا
ہوں گے اب اصحابِ کسریٰ بھی یقینا کالعدم
——
6 ۔ ساوہ بُحیرہ ۔۔ 64 واں شعر
——
قصبہ ہے ایران کا ، ساوہ جسے کہتے ہیں ہم
تذکروں میں اس کی بھی تاریخ بے شک ہے رقم
ہے بُحیرہ اک ندی ہمدان و قم کے درمیاں
بت کدے ہیں جس کے چاروں اور ، جس میں ہیں صنم
یوں بُحیرہ بت کدوں کی سرزمیں کا نام ہے
ان کی جانب ہے اشارہ اور کیا بتلائیں ہم
——
7 ۔ عرم ۔ 88واں شعر
——
یہ وہ وادی ہے ، ہوا اللہ کا جس پر کرم
رہتی تھی سیلاب کی زد میں یہ بستی دم بہ دم
ملکہءبلقیس نے تعمیر فرمایا تھا بند
یوں مچا پائیں نہ پھر طغانیاں کوئی اُدھم
چاروں جانب سینکڑوں باغات قائم ہو گئے
رحمتوں کے ساتھ برسا ٹوٹ کر ابر کرم
جب کیا کفرانِ نعمت تو غضب نازل ہوا
بند ٹوٹا ، ہو گئے باغات سارے کالعدم
اس کے بارے میں کہوں میں اور کیا المختصر
قصہ بربادی کا یہ قرآن میں بھی ہے رقم
——
8 ۔عاد و ارم ۔ 93 واں شعر
——
تھی بڑی سرکش یہ قومِ عاد و اولادِ ارم
ذکر قرآں کی بہت سی سورتوں میں ہے رقم
ہود کو اس کی ہدایت کے لیے بھیجا گیا
خیر کی جانب مگر اٹھا نہیں اس کا قدم
آندھی اور طوفان نے برباد کر ڈالا اِسے
ہود کے ساتھی رہے محفوظ ، تھا رب کا کرم
دیکھو قومِ عاد کا انجام عبرتناک ہے
اس بُرے انجام سے سوچو تو بچ سکتے ہیں ہم
——
9 ۔ زُہیر و ھرم ۔۔ 152۔۔ واں شعر
——
بادشاہ ملکِ عرب کا ایک گزرا ہے ھرم
دریا دل تھا ، ذات میں اپنی تھا اِک بحرِ کرم
ہاں زُھیر ابن ابی سلمیٰ تھا اک اہل قلم
اپنی شعر و شاعری کے بَل پہ تھا وہ محترم
بیسیوں اُس نے قصیدے لکھے در شانِ ھرم
کر رہا ہے یہ اشارہ ہی بوصیری کا قلم
——
ترجمہ نگار: سید عارف معین بلے
بشکریہ : ظفر معین بلے
——
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ