مَیں کہتا ھوں اُسے مت دیکھو لیکن

مَیں کہتا ھوں اُسے مت دیکھو لیکن

مری آنکھیں مری سُنتی کہاں ھیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کسی بھی طَور بہلتا نہیں جنُوں تیرا
شاہِ جوانانِ خلُد
درخت کاٹنے والو ! تُمہیں خبر ھی نہیں
میں کہتا ہوں اُسے مت دیکھو لیکن
پہنچے نہ وہاں تک یہ دعا مانگ رہا ہوں
کٹ گئی عمر تو سمجھ آیا
شوریدہ بستی میں ایسی آوازوں کی بھیڑ رہی
لے قضا احسان تجھ پر کر چلے
وہ لہجہ ہائے دریائے سخن میں مسلسل
ذرا سی بات پے ہر رسم توڑ آیا تھا