مُجھے اک رس بھری کا دھیان تھا، ھے اور رھے گا

مُجھے اک رس بھری کا دھیان تھا، ھے اور رھے گا

یہی مصرعہ مِرا اعلان تھا، ھے اور رھے گا

 

سپاھی ڈھونڈتے پھرتے ھیں جس کو شہر بھر میں

وھی باغی مِرا مہمان تھا، ھے اور رھے گا

 

تُجھے مِل تو نہیں پایا مگر مَیں جانتا ھُوں

کہ تُجھ میں عشق کا امکان تھا، ھے اور رھے گا

 

کسی کو اپنے دل کی مُستقل ٹھنڈک نہ جانو

بدن تو ایک آتش دان تھا، ھے اور رھے گا

 

مِرے شعروں پہ طعن و طنز کرنے والے لوگو

یہ لہجہ ھی مری پہچان تھا، ھے اور رھے گا

 

قسم ھے آگ سے اُٹھتی ھُوئی چنگاریوں کی

محبت میں بہت نُقصان تھا، ھے اور رھے گا

 

کبھی گل پُھول تو تھے ھی نہیں کمرے میں لیکن

تہی دامن سا اک گُلدان تھا، ھے اور رھے گا

 

تُم اپنے ذھن سے اُس کو کُھرچ کر خوش نہ ھونا

تمہارے دل میں تو رحمان تھا، ھے اور رھے گا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ