اردوئے معلیٰ

مٹتی ہوئی تہذیب سے نفرت نہ کیا کر

چوپال پہ بوڑھوں کی کہانی بھی سنا کر

 

معلوم ہوا ہے یہ پرندوں کی زبانی

تھم جائے گا طوفان درختوں کو گرا کر

 

پیتل کے کٹورے بھی نہیں اپنے گھروں میں

خیرات میں چاندی کا تقاضا نہ کیا کر

 

ممکن ہے گریبانوں میں خنجر بھی چھپے ہوں

تو شہر اماں میں بھی نہ بے خوف پھرا کر

 

مانگے ہوئے سورج سے تو بہتر ہے اندھیرا

تو میرے لیے اپنے خدا سے نہ دعا کر

 

تحریر کا یہ آخری رشتہ بھی گیا ٹوٹ

تنہا ہوں میں کتنا ترے مکتوب جلا کر

 

آتی ہیں اگر رات کو رونے کی صدائیں

ہمسائے کا احوال کبھی پوچھ لیا کر

 

وہ قحط ضیا ہے کہ مرے شہر کے کچھ لوگ

جگنو کو لیے پھرتے ہیں مٹھی میں دبا کر

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات