مٹی سنوار کر مری، دیپک میں ڈھال دے

مٹی سنوار کر مری، دیپک میں ڈھال دے

مجھ کو جلا کے پھر مری دنیا اُجال دے

 

مجھ کو اُٹھا کے رکھ کسی طوفاں کی آنکھ میں

ہر موج مضطرب مرے سر سے اچھال دے

 

ٹکرا دے حوصلہ مرا آلام زیست سے

مرنے کی آرزو کو بھی دل سے نکال دے

 

پامال راستوں سے ہٹا کر مرے قدم

نایافت منزلوں کے اشارے پہ ڈال دے

 

اک مستعار آگہی اُلجھا گئی ہے ذہن

دے مجھ کو سوچ میری اور اپنا خیال دے

 

خاموشیوں کے دہر میں لائے جو ارتعاش

مجبور مصلحت کو وہ حرفِ مجال دے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مجھ کو شکستِ دل کا مزا یاد آگیا
اب یہاں سب کو محبت ھے، میاں
اگر یہ کہہ دو بغیر میرے نہیں گزارہ تو میں تمہارا
میں غالبوں جیسا کبھی میروں کی طرح تھا
تہہ قوسین سوتے ہیں سر محراب سوتے ہیں
وصال رُت بھی اگر آئے ، کم نہیں ہوتے
نہ پُھول کی نہ کسی نافۂ غزال کی ہے
بات کب رہ گئی مرے بس تک
صداء کوئی نہیں اب کے ، فقط دہلیز پر سر ہے
جو جا چکا وہ گیت ، وہی سُر تھا ، ساز تھا

اشتہارات