اردوئے معلیٰ

Search

مچی ہے دھوم کہ نبیوں کے تاجور آئے

سراپا نور ہیں جو بن کے وہ بشر آئے

 

خوشا نصیب مبارک ہو یہ گھڑی سب کو

خدا کے پیارے نبی آمنہ کے گھر آئے

 

فضائیں مہکی ہیں عالم میں ہے بہار آئی

سماں ہے جشن کا سلطانِ بحر و بر آئے

 

ہے عرش و فرش پہ خوشیوں کا اک نیا موسم

چراغ جلنے لگے مصطفیٰ جدھر آئے

 

ہزار سجدے کروں چوم لوں میں نقشِ قدم

مرے سفر میں جو آقا کی رہ گزر آئے

 

اے ناز تجھ پہ ہو احسان شاہِ بطحا کا

وہ آئیں گھر میں مرے کاش وہ سحر آئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ