مگر پھر ایک دن اُس سے مِلا میں

مگر پھر ایک دن اُس سے مِلا میں

مجھے لگتا تھا حیرت مر گئی ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جھانکتے جھانکتے کنارے سے
خود اپنے ہاتھ سے اپنا فسانہ لکھا ہے
نشے میں ڈُوب گیا مَیں ، فضا ھی ایسی تھی
تُم ہو معراجِ وفا ، اے کشتگانِ کربلا
قہقہوں سے لدے پھندے ھوئے شخص
نیا کرایے دار یہ سُن کر کانپ رہا ہے
گماں یہی ہے کہ ہم لوگ زندہ رہ جائیں
چاشنی چاشنی لہجہ جس کا
ہاتھوں میں نازکی سے سنبھلتی نہیں جو تیغ
راہ الفت میں ملاقات ہوئی کس کس سے

اشتہارات