اردوئے معلیٰ

میرا آئینہ افکار ہے مدحت تیری

میرا آئینہ افکار ہے مدحت تیری

ڈھل گئی شعر کے سانچے میں محبت تیری

 

دوست تو دوست ترے خون کے پیاسوں کو بھی

اپنا گرویدہ بنا لیتی ہے شفقت تیری

 

آدمیت کے سب آداب سکھا دیتی ہے

روحِ قرآن کا اعجاز ہے سیرت تیری

 

تیرا ہر قول حکم ہے، تری ہر بات سند

نقش ہے صفحہ ہستی پہ صداقت تیری

 

تیری خوشبو سے معطر ہے مرا دشت خیال

میرا سرمایہ انفاس ہے نکہت تیری

 

میرے افکار کی دنیا تو ہے تجھ سے پر نور

میرے کردار میں رخشندہ ہو سیرت تیری

 

عالم کفر کے بھٹکے ہوئے انسانوں کو

لے گئی منزل وحدت پہ قیادت تیری

 

للہ الحمد کہ ہر بے سر و ساماں کے لیے

آخرت کا سر و ساماں ہے شفاعت تیری

 

آرزو ہے کہ ترے شہر کی گلیاں دیکھوں

مجھ کو لے جائے ترے در پہ عقیدت تیری

 

مجھ سے ہوگا نہ کبھی تیرے محاسن کا شمار

ماوریٰ ہے مرے ادراک سے عظمت تیری

 

کیوں نہ خالد ہو سلاطین جہاں سے بیزار

اُس کی دولت ہے فقط چشم عنایت تیری

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ