اردوئے معلیٰ

میرا دل اور میری جان مدینے والے

میرا دل اور میری جان مدینے والے

تجھ پہ سو جان سے قربان مدینے والے

 

باعثِ ارض و سما صاحبِ لولاک لما

عینِ حق صورت انسان مدینے والے

 

بھردے بھردے مرے داتا مری جھولی بھردے

اب نہ رکھ بے سرو سامان مدینے والے

 

پھر تمنّائے زیارت نے کیا دل بے چین

پھر مدینے کا ہے ارمان مدینے والے

 

تیرا در چھوڑ کے جاؤں تو کہاں جاؤں میں

میرے آقا مرے سلطان مدینے والے

 

سگِ طیبہ مجھے سب کہہ کے پُکاریں بیدمؔ

یہی رکھیں مری پہچان مدینے والے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ