میرا سکوت سُن ، مِری گویائی پر نہ جا

میرا سکوت سُن ، مِری گویائی پر نہ جا

آنکھوں کے حرف پڑھ ، غزل آرائی پر نہ جا

 

اندر سے ٹوٹا پھوٹا ہوا ہوں میں رُوح تک

تُو میرے خدّوخال کی رعنائی پر نہ جا

 

دو چار دن کے بعد بُھلا ڈالتے ہیں لوگ

دو چار دن کی جُھوٹی پذیرائی پر نہ جا

 

یہ عارضی شکست ہے بُنیاد فتح کی

میدانِ جنگ سے مِری پسپائی پر نہ جا

 

گر دیکھنے کی بات ہے تو پُورے دل سے دیکھ

اِن دھوکے باز آنکھوں کی بینائی پر نہ جا

 

آ بیٹھ عشق سیکھنے ہم پاگلوں کے بیچ

دانشورانِ شہر کی دانائی پر نہ جا

 

اِس گھٹتی بڑھتی ٹِکیہ کو تُو گیند مت سمجھ

فارس! مہِ تمام کی گولائی پر نہ جا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جب خزاں آئے تو پتّے نہ ثَمَر بچتا ھے
لرزتے جسم کا بھونچال دیکھنے کے لیے
جہانِ فن میں دُور دُور تک برائے نام ہو
تمہارے گال کو چھو کر بھی کھارا کس لئے ہے؟
گرچہ کم کم تری تصویر نظر آتی ہے
درد سوغات تھی اداسی کی
کوئی بھیک رُوپ سُروپ کی، کوئی صدقہ حسن و جمال کا
تُم بہت گہری اُداسی کی وہ کیفیت ہو
رقص کیا رات بھر حدوں میں تھا
میں نے جب شعر ترے درد میں ڈھالے آخر

اشتہارات