اردوئے معلیٰ

میرا سکوت سُن ، مِری گویائی پر نہ جا

آنکھوں کے حرف پڑھ ، غزل آرائی پر نہ جا

 

اندر سے ٹوٹا پھوٹا ہوا ہوں میں رُوح تک

تُو میرے خدّوخال کی رعنائی پر نہ جا

 

دو چار دن کے بعد بُھلا ڈالتے ہیں لوگ

دو چار دن کی جُھوٹی پذیرائی پر نہ جا

 

یہ عارضی شکست ہے بُنیاد فتح کی

میدانِ جنگ سے مِری پسپائی پر نہ جا

 

گر دیکھنے کی بات ہے تو پُورے دل سے دیکھ

اِن دھوکے باز آنکھوں کی بینائی پر نہ جا

 

آ بیٹھ عشق سیکھنے ہم پاگلوں کے بیچ

دانشورانِ شہر کی دانائی پر نہ جا

 

اِس گھٹتی بڑھتی ٹِکیہ کو تُو گیند مت سمجھ

فارس! مہِ تمام کی گولائی پر نہ جا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات