میرے آقا گر بلوائیں

میرے آقا گر بلوائیں

مجھ عاصی کے دن پھر جائیں

 

اُن کی آمدِ پاک کا سن کر

آنکھیں یہ دیپک بن جائیں

 

شوق کو ہم مہمیز کریں اور

یثرب کی راہیں بن جائیں

 

بھٹکے جب کوئی منزل سے

ہم اس کو رستہ دکھلائیں

 

وہ جو کریں اس سمت اشارہ

کھنچتی آئیں کاہ کشائیں

 

بات نہیں بنتی کوئی بھی

آقا مِرے جب تک نہ بنائیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ