میرے جنونِ شوق کو ہوش و حواس دے

میرے جنونِ شوق کو ہوش و حواس دے

لہجہ اگر ہو سخت تو اس میں مٹھاس دے

 

دنیا کے گوشے گوشے میں فصلِ کپاس دے

جو بے لباس ہوں انھیں اچھا لباس دے

 

ایسی مسرتیں کہ جو ہوں وجہِ گمرہی

مجھ کو نہیں قبول، مجھے دل اداس دے

 

شدت کی جب لگی ہو مجھے روزِ حشر پیاس

کوثر کے آبِ شیریں کا مجھ کو گلاس دے

 

نزدیک ترے جب مری حبل الودید کے

تو نورِ معرفت بھی مرے دل کے پاس دے

 

اس سے زیادہ کچھ نہیں میری ضرورتیں

روزانہ خرچ کے لیے روپیے پچاس دے

 

ساحل ہے منکرات میں اب تک پھنسا ہوا

میرے کریم اس کو دلِ حق شناس دے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ