اردوئے معلیٰ

میں اپنے شام و سحَر تیرے نام کرتا ہوں

کہ وقت کوئی ہو تُجھ سے کلام کرتا ہوں

 

تِرے حُروف کی رَو رہنمائی کرتی ہے

میں زندگی کا سفر یُوں تمام کرتا ہوں

 

تِرے جلو میں حدیں ٹوٹ پُھوٹ جاتی ہیں

اَزَل اَبَد سے اُدھر بھی خرام کرتا ہوں

 

تِری نوا میں ہے فردوسِ گوش کی تفسیر

تِری حدیث سے حاصلِ دوام کرتا ہوں

 

شرَف ملا ہے اِسے تیرے پاؤں چھونے کا

میں آسمان کا بھی احترام کرتا ہوں

 

وہ لمحہ جو کہ ترِی یادسے تہی گزرے

میں اپنے آپ پر اس کو حرام کرتا ہوں

 

تِری شناخت کا یارا نہیں مجھے پھر بھی

میں تیری رفعتِ جاں کو سلام کرتا ہوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات