اردوئے معلیٰ

میں بھی کسی کے درد کا درمان بن گیا

ادنیٰ سا آدمی تھا میں انسان بن گیا

 

اپنی حدیں ملی ہیں تو ادراکِ حق ہوا

عرفانِ ذات باعثِ ایمان بن گیا

 

ہمسر تھا جبرئیل کا جب تک تھا سجدہ ریز

جیسے ہی سر اٹھایا تو شیطان بن گیا

 

خیراتِ عشق کیا پڑی کشکولِ ذات میں

اتنے کھلے گلاب کہ گلدان بن گیا

 

کچھ بھی نہیں تھا کہنے کو شہر وصال میں

ہجرت ملی غزل کو تو دیوان بن گیا

 

پہچانیے مجھے میں وہی ہوں ظہیرؔ، جو

خود کو مٹا کر آپ کی پہچان بن گیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات