اردوئے معلیٰ

Search

 

میں خالی ہاتھ تو آیا نہیں مدینے سے

ہوا بہار کی آنے لگی ہے سینے سے

 

نہا کے دھوپ میں آیا ہوں جب مدینے سے

مہک گلاب کی آئے نہ کیوں پسینے سے

 

مرے شعور میں موجود گر نہیں احمد

مرے خدا مری تو بہ ہے ایسے جینے سے

 

اُسے حیات کا ساحل نصیب ہو کیوں کر

اُتر گیا ہو محمد کے جو سفینے سے

 

نبی تو آئے ہزاروں، ہے شانِ احمد کی

جہاں میں روشنی پھیلی تو اس نگینے سے

 

نبی کے عشق میں کھو کر ذرا تو دیکھو گلؔ

حیات کیسی گزرتی ہے پھر قرینے سے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ