میں خالی ہاتھ تو آیا نہیں مدینے سے

 

میں خالی ہاتھ تو آیا نہیں مدینے سے

ہوا بہار کی آنے لگی ہے سینے سے

 

نہا کے دھوپ میں آیا ہوں جب مدینے سے

مہک گلاب کی آئے نہ کیوں پسینے سے

 

مرے شعور میں موجود گر نہیں احمدؐ

مرے خدا مری تو بہ ہے ایسے جینے سے

 

اُسے حیات کا ساحل نصیب ہو کیوں کر

اُتر گیا ہو محمدؐ کے جو سفینے سے

 

نبیؐ تو آئے ہزاروں، ہے شانِ احمدؐ کی

جہاں میں روشنی پھیلی تو اس نگینے سے

 

نبیؐ کے عشق میں کھو کر ذرا تو دیکھو گلؔ

حیات کیسی گزرتی ہے پھر قرینے سے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جب حسن تھا ان کا جلوہ نما انوار کا عالم کیا ہوگا
کس کی آمد ہے یہ کیسی چمن آرائی ہے
کلامِ احمدِ مرسل سمندر ہے لطافت کا
اے خدا شكر كہ اُن پر ہوئیں قرباں آنكھیں
ہستی پر میری مولا آقا کا رنگ چڑھا دے
روحِ دیں ہے عید میلادُالنبی
شب غم میں سحر بیدار کر دیں
شفیع الوریٰ() کو درودوں کا عطیہ​
شعور و فکر میں ارفع مقام آیا ہے
نعت گلزار مدینہ میں سناتے، جاتے

اشتہارات