اردوئے معلیٰ

میں غالبوں جیسا کبھی میروں کی طرح تھا

میں غالبوں جیسا کبھی میروں کی طرح تھا

میرا کہا پتھر پہ لکیروں کی طرح تھا

 

مجنوں نے بھی تعویز محبت لیے مجھ سے

میں عاشقوں کے درمیاں پیروں کی طرح تھا

 

وہ تخت نشیں جب بھی ہوا میں نے گرایا

وہ بادشاہ تھا میں بھی فقیروں کی طرح تھا

 

جب جب بھی ہلیں آپ کے ہونٹوں کی کمانیں

تو لہجہ و انداز بھی تیروں کی طرح تھا

 

ہیروں کی طرح قیمتی تھا وہ، تھا حسیں بھی

لیکن ہے ستم سخت بھی ہیروں کی طرح تھا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ