اردوئے معلیٰ

نازش عرش علیٰ نقش کف پا تیرا

مرکز دیدۂ جبریل ہے تلوا تیرا

 

کون ہے وہ جو نہیں چاہنے والا تیرا

فرش تا عرش ہے پھیلا ہوا حلقہ تیرا

 

ختم ہوتی ہی نہیں خوشبوئے دیوار حطیم

کچھ نہ کچھ جذب ہوا ہوگا پسینہ تیرا

 

میری قسمت پہ کرے رشک ہر اک شاخ گلاب

ہاتھ لگ جائے ذرا بھی جو پسینہ تیرا

 

بن کے آیا ہے تو گلزار رسالت کی بہار

کیوں نہ فردوس بداماں ہو مدینہ تیرا

 

زندگی کچھ بھی نہیں تیری نوازش کے بغیر

میں تو مر جاتا جو ملتا نہ سہارا تیرا

 

کیوں نہ سرورؔ بھی تجھے سرور کونین کہے

واقعی ہے سر کونین پہ سایہ تیرا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات