نامور شاعر، داغ دہلوی کے داماد سائل دہلوی کا یوم وفات

آج نامور شاعر، داغ دہلوی کے داماد سائل دہلوی کا یوم وفات ہے
نواب سراج الدین احمد خاں نام، کنیت ابوالمعظم اور تخلص سائل تھا۔ 29 مارچ 1867ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کا نام غالب نے رکھا تھا اور کنیت حسن نظامی نے۔
نواب سراج الدین احمد خاں سائل دہلویؔ بن نواب شہاب الدین احمد خاں ثاقبؔ بن نواب ضیا الدین خاں بہادر نیرؔ بن فخر الدولہ نواب احمد بخش خان بہادر
( والی فیروز پور جھرکہ لاہارو، بن مرزا عارف خان بخارائی اسی طرف اشارہ کرتے ہوۓ ایک جگہ کہا تھا:
سائلؔ کو تم نہ چشم حقارت سے دیکھنا
نواب پانچ پشت سے اس کا خطاب ہے
عربی ،فارسی اور سنسکرت کے علاوہ سائل نے طب کی تعلیم بھی حاصل کی تھی۔ ابتدا میں سراج تخلص کرتے تھے۔ سائل نوابان لوہارو کے چشم وچراغ تھے۔ شاعری کا شوق ہوا تو شہزادہ مرزا عبدالغنی ارشد کے شاگرد ہوئے ، پھر داغ سے استفادہ کیا۔ شاگرد کے علاوہ سائل داغ کے داماد بھی تھے۔ داغ کی منہ بولی بیٹی لاڈلی بیگم سائل کی زوجہ ثانیہ تھیں۔
سائل تخلص رکھنے کی وجہ :
رہا یہ سوال کہ سائل ؔ تخلص کیسے رکھا گیا؟تو آئیے!ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ محفل جمی۔ جس میں نواب احمد سعید خان یعنی سائل دہلوی کے چچا بھی موجود تھے۔ مسئلہ یہ زیر بحث آیا کہ سرا ج الدین احمد خاں کا تخلص کیا رکھا جائے؟اسی فکر میں سب غلطاں و پیچاں تھے کہ ایک شریف صورت انسان وارد ہوئے۔ چہرے مہرے سے اچھے آدمی لگتے تھے۔ پوچھا گیا کہ بھائی آپ کو ن ہیں؟کہا:حضور سائل ہوں ‘‘۔ چنانچہ اسی وقت سے نواب صاحب کو سائلؔ دہلوی کہا جانے لگا۔
ڈاکٹر سید اعجاز حسین کی رائے :
’’سائل ؔ کی غزلوں میں شوخی اور لطافت ساتھ ساتھ ہیں۔ کلام میں شگفتگی اور انبساط کا مخزن ہے۔ مگر ابتذال اور عامیانہ پن سے کوسوں دور۔ معشوقوں سے چھیڑ چھاڑ بھی ہے۔ لیکن حفظ مراتب کے ساتھ۔ جہاں اشعار مزیدار گفتگو کا مرقع پیش کرتے ہیں۔ وہاں دلکشی کی حد نہیں رہتی۔ پر گوئی کا یہ عالم تھا کہ سخت سے سخت زمین میں بھی بہت سے اشعار کہ دینا معمولی بات تھی۔ استاذی کا یہ حال تھا کہ اس مضمون کو چاہتے نہایت خوبصورتی سے عاشقانہ رنگ دیتے، شعر کی مضبوطی اور الفاظ کے در و بست کا خاص خیال رکھتے تھے ‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خاوردہلوی کی رائے :
’’نواب صاحب قبلہ شاعر سے زیادہ ایک انسان تھے۔ وہ دہلی کی تہذیب و تمدن کا آخری نمونہ تھے۔ شعر و ادب کے علاوہ بہت سی خوبیاں ان میں تھیں۔ بے مثال خطاط اور خوش نویس تھے۔ کشیدہ کاری میں اپنا جواب نہیں رکھتے تھے۔ …..غرض کہ ان میں وہ سب کمالات تھے جو اس دور کے رؤسا کا طرَّۂ امتیاز تھے ‘‘
وفات :
تاریخ وفات : 15 ستمبر 1945 ء
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جتاتے رہتے ہیں یہ حادثے زمانے کے
کہ تنکے جمع کریں پھر نہ آشیانے کے
سبب یہ ہوتے ہیں ہر صبح باغ جانے کے
سبق پڑھاتے ہیں کلیوں کو مسکرانے کے
ہزاروں عشق جنوں خیز کے بنے قصے
ورق ہوے جو پریشاں مرے فسانے کے
ہیں اعتبار سے کتنے گرے ہوے دیکھا
اسی زمانے میں قصے اسی زمانے کے
قرار جلوہ نمائی ہوا ہے فردا پر
یہ طول دیکھیے اک مختصر زمانے کے
نہ پھول مرغ چمن اپنی خوشنوائی پر
جواب ہیں مرے نالے ترے ترانے کے
اسی کی خاک ہے ماتھے کی زیب بندہ نواز
جبیں پہ نقش پڑے ہیں جس آستانے کے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں: معروف شاعر مرزا جعفر علی خاں اثر لکھنوی کا یوم پیدائش
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوتے ہی جواں ہو گئے پابند حجاب اور
گھونگھٹ کا اضافہ ہوا بالائے نقاب اور
جب میں نے کہا کم کرو آئین حجاب اور
فرمایا بڑھا دوں گا ابھی ایک نقاب اور
پینے کی شراب اور جوانی کی شراب اور
ہشیار کے خواب اور ہیں مدہوش کے خواب اور
گردن بھی جھکی رہتی ہے کرتے بھی نہیں بات
دستور حجاب اور ہیں انداز حجاب اور
پانی میں شکر گھول کے پیتا تو ہے اے شیخ
خاطر سے ملا دے مری دو گھونٹ شراب اور
ساقی کے قدم لے کے کہے جاتا ہے یہ شیخ
تھوڑی سی شراب اور دے تھوڑی سی شراب اور
سائلؔ نے سوال اس سے کیا جب بھی یہ دیکھا
ملتا نہیں گالی کے سوا کوئی جواب اور
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ممتاز شاعر ڈااکٹر معین احسن جذبیؔ کا یومِ پیدائش
نامور شاعرہ رحمت النساء نازؔ کا یوم وفات
معروف ناول نگار اور افسانہ نگار جیلانی بانو کا یوم پیدائش
مشہور و معروف شاعرہ اداؔ جعفری کا یوم پیدائش
پنجابی زبان کے نامور شاعر اور فلمی نغمہ نگار وارث لدھیانوی کا یوم وفات
اردو اور فارسی کے شاعر سید عابد علی عابد کا یومِ پیدائش
اردو کے مشہور شاعر شیدا چینی کا یوم وفات
ممتاز شاعر مولانا چراغ حسن حسرت کی برسی
معروف شاعر ساغر صدیقی کا یوم وفات
معروف مصنف اور شاعر عقیل عباس جعفری کا یوم پیدائش