نامور شاعر حکیم سید ضامن علی جلال لکھنوی کا یوم وفات

آج نامور شاعر حکیم سید ضامن علی جلال لکھنوی کا یوم وفات ہے

جلال لکھنویحکیم سید ضامن علی نام، جلال تخلص۔ ۳۱۔۱۸۳۰ء میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ کتب درسیہ فارسی وعربی کی علم حاصل کرنے کے بعد اپنے آبائی پیشہ طب کی تعلیم حاصل کی۔شعروسخن کا کم عمری سے شوق تھا۔ امیرعلی ہلالؔ ، میرعلی اوسط رشکؔ اور مرزا محمد رضا برقؔ سے مشورہ سخن کیا۔ انقلاب۱۸۵۷ء کے بعد جلال لکھنوی رام پور چلے گئے جہاں وہ نواب یوسف علی خاں اور نواب کلب علی خاں کے دربار سے وابستہ رہے۔ نواب کلب علی خاں کے انتقال کے بعد وہ نواب منگرول(کاٹھیاواڑ) کے دربار سے منسلک ہوگئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : مشہور شاعر اور طبیب، حکیم محمد ناصر کا یومِ وفات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر عمر میں سوائے شعروشاعری اور اصلاح سخن کے کوئی مشغلہ نہ تھا۔ جلال لکھنوی کو اپنے فن، زبان اور تحقیق پر بڑا ناز تھا۔ چار دیوان کے علاوہ فن عروض، قواعداور تذکیر وتانیث پر کتابیں ان کی یادگار ہیں۔ ۲۰؍اکتوبر۱۹۰۹ء کو لکھنؤ میں انتقال ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔
کیوں وصل میں بھی آنکھ ملائی نہیں جاتی
وہ فرق دلوں کا وہ جدائی نہیں جاتی
کیا دھوم بھی نالوں سے مچائی نہیں جاتی
سوتی ہوئی تقدیر جگائی نہیں جاتی
کچھ شکوہ نہ کرتے نہ بگڑتا وہ شب وصل
اب ہم سے کوئی بات بنائی نہیں جاتی
دیکھو تو ذرا خاک میں ہم ملتے ہیں کیونکر
یہ نیچی نگہ اب بھی اٹھائی نہیں جاتی
کہتی ہے شب ہجر بہت زندہ رہوگے
مانگا کرو تم موت ابھی آئی نہیں جاتی
وہ ہم سے مکدر ہیں تو ہم ان سے مکدر
کہہ دیتے ہیں صاف اپنی صفائی نہیں جاتی
ہم صلح بھی کر لیں تو چلی جاتی ہے ان میں
باہم دل و دلبر کی لڑائی نہیں جاتی
خود دل میں چلے آؤ گے جب قصد کرو گے
یہ راہ بتانے سے بتائی نہیں جاتی
چھپتی ہے جلالؔ آنکھوں میں کب حسرت دیدار
سو پردے اگر ہوں تو چھپائی نہیں جاتی
۔۔۔۔۔۔۔۔
تصور ہم نے جب تیرا کیا پیش نظر پایا
تجھے دیکھا جدھر دیکھا تجھے پایا جدھر پایا
کہاں ہم نے نہ اس درد نہانی کا اثر پایا
یہاں اٹھا وہاں چمکا ادھر آیا ادھر پایا
پتا اس نے دیا تیرا ملا جو عشق میں خود گم
خبر تیری اسی سے پائی جس کو بے خبر پایا
دل بے تاب کے پہلو سے جاتے ہی گیا سب کچھ
نہ پائیں سینے میں آہیں نہ آہوں میں اثر پایا
وہ چشم منتظر تھی جس کو دیکھا آ کے وا تم نے
وہ نالہ تھا ہمارا جس کو سوتے رات بھر پایا
میں ہوں وہ ناتواں پنہاں رہا خود آنکھ سے اپنی
ہمیشہ آپ کو گم صورت تار نظر پایا
حبیب اپنا اگر دیکھا تو داغ عشق کو دیکھا
طبیب اپنا اگر پایا تو اک درد جگر پایا
کیا گم ہم نے دل کو جستجو میں داغ حسرت کی
کسی کو پا کے کھو بیٹھے کسی کو ڈھونڈھ کر پایا
بہت سے اشک رنگیں اے جلالؔ اس آنکھ سے ٹپکے
مگر بے رنگ ہی دیکھا نہ کچھ رنگ اثر پایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : مصنف حکیم محمد سعید کا یومِ پیدائش
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے مصور جو مری تصویر کھینچ
حسرت آگیں غمزدہ دلگیر کھینچ
جذب بھی کچھ اے تصور چاہئے
خود کھنچے جس شوخ کی تصویر کھینچ
اے محبت داغ دل مرجھا نہ جائیں
عطر ان پھولوں کا بے تاخیر کھینچ
آ بتوں میں دیکھ زاہد شان حق
دیر میں چل نعرۂ تکبیر کھینچ
ایک ساغر پی کے بوڑھا ہو جوان
وہ شراب اے مے کدہ کے پیر کھینچ
دل نہ اس بت کا دکھے کہتا ہے عشق
کھینچ جو نالہ وہ بے تاثیر کھینچ
دل ادھر بیتاب ہے ترکش ادھر
کھینچتا ہوں آہ میں تو تیر کھینچ
کچھ تو کام آ ہجر میں او اضطراب
شوخیٔ محبوب کی تصویر کھینچ
قیس سے دشت جنوں میں کہہ جلالؔ
آگے آگے چل مرے زنجیر کھینچ
۔۔۔۔۔۔۔۔
مر کے بھی قامت محبوب کی الفت نہ گئی
ہو چکا حشر بھی لیکن یہ قیامت نہ گئی
شب کو مے خوب سی پی صبح کو توبہ کر لی
رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی
بوسہ لے کر جو مکرتا ہوں تو وہ کہتے ہیں
شاعری کا اثر اور جھوٹ کی عادت نہ گئی
داغ مٹتے نہ سنا دل سے تری حسرت کا
آئی جس گھر میں پھر اوس گھر سے یہ دولت نہ گئی
پاس بیٹھے بھی تو کیا جلد اٹھے گھبرا کر
میرا سودا تو گیا آپ کی وحشت نہ گئی
نہ ہوا صاف دل یار کسی طرح جلالؔ
خاک میں مل گئے ہم اس کی کدورت نہ گئی
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یاد آ کے تری ہجر میں سمجھائے گی کس کو
نامور مزاح نگار مجید لاہوری کی برسی
ممتاز شاعر حمایت علی شاعر کا یومِ پیدائش
ممتاز شاعر،ادیب، مترجم اور صحافی کرار نوری کا یوم وفات
ممتاز شاعر احمد فراز کا یومِ وفات
مشہور شاعر اور صحافی ظہور نظر کا یوم وفات
اردو اور فارسی کے شاعر سید عابد علی عابد کا یومِ پیدائش
مشہور شاعر سید غلام بھیک نیرنگ کا یوم وفات
نامور ادیب پطرس بُخاری کا یوم پیدائش
مصنف حکیم محمد سعید کا یومِ پیدائش