نصیب تھا علی اصغر کا یار بچپن میں

نصیب تھا علی اصغر کا یار بچپن میں

بنایا خلد کو جائے قرار بچپن میں

 

حسین ابنِ علی کے جگر کا ٹکڑا تھا

جو کربلا میں ہوا مشکسار بچپن میں

 

دیئے گئے اسے تسنیم و سلسبیل کے جام

جو تشنگی نے کیا بے قرار بچپن میں

 

علی کا عزمِ شجاعت تھا اس کے چہرے پر

نبی کے نور کا تھا عکس دار بچپن میں

 

گیا ہے چھوڑ کے آغوشِ مادری کا سکوں

چنا ہے جس نے شہادت کا بار بچپن میں

 

علی کا خون تھا منہ پھیر کر کہاں جاتا

خوشی سے سہہ لیا دشمن کا وار بچپن میں

 

یہ بے مثال ہے کمسن شہیدِ کرب و بلا

ہوا جو دینِ خدا پر نثار بچپن میں

 

منقبت بحضور سیدنا علی اصغر رضی اللہ تعالیٰ عنہ
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

واجبِ تعظیم و عزت ، لائقِ صد احترام
اسیروں کے مشکل کشا غوث اعظم
ماتمِ شبیرؑ کا د ل پر اثر پیدا ہوا
مقامِ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ
فاطمہ ، حیدر پہ جاں قربان ہو
جب رخ پاک سے پردہ وہ ہٹا دیتے ہیں
میں نازشِ مہر و ماہ چہرے کی ایک لمحے کو دید کر لوں
وجد میں دل ہے روح پہ مستی طاری ہے
ہم کہاں مدحتِ سرور کا ہنر رکھتے ہیں
یہ میری آنکھ ہوئی اشکبار تیرےؐ لیے

اشتہارات