نظر میں برق سی اِک ثانئے کو لہرائی

نظر میں برق سی اِک ثانئے کو لہرائی

چھپا گئے ہو بخوبی مگر شناسائی

 

عجب ہوا کہ شکستِ یقین کی چادر

ستم ظریف تری اوڑھنی نکل آئی

 

جگر کے زخم کہاں نشتر نے سینے تھے

بساطِ عشق میں کب تھی مری مسیحائی

 

ملال ہے کہ محبت کی بارگاہ سے بھی

دلِ تباہ کے حصے میں بے دلی آئی

 

گری ہے دوشِ تمنا سے پوٹلی دل کی

بکھر گئی ہے مرے گرد میری تنہائی

 

جنوں گلے سے لگاتا رہا بہر صورت

مگر کمال رہی مرگ میں پزیرائی

 

ہوئی ہے عمر کہ دل ڈوبتا ہی جاتا ہے

بہت عمیق ہے اس وسوسے کی گہرائی

 

ادا ہوا ہی نہیں قرض ایک منظر کا

پڑی ہے رہن زمانے سے میری بینائی

 

وہ ایک بات کہ جو وقت پر کہی نہ گئی

ہزار بار مری شاعری نے دہرائی

 

طلب کو دیر بہت ہو گئی تبھی ناصر

ہے بے نیاز مسافت سے آبلہ پائی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ