نظر میں سرورِ دیں کا جمال رکھتا ہوں

 

نظر میں سرورِ دیں کا جمال رکھتا ہوں

انہی کے ذکر سے راتیں اجال رکھتا ہوں

 

محبتوں کے حوالوں میں ذکرِ حسنِ نبی

میں سب سے پہلے ہی بے قیل و قال رکھتا ہوں

 

سخن کی راہ میں تکریمِ ان کی لازم ہے

میانِ شعر ادب کا خیال رکھتا ہوں

 

مرا یہ نام و نسب ہے انہی کی نسبت سے

نہ کوئی خوبی نہ کوئی کمال رکھتا ہوں

 

حضور مجھ کو بھی جلوہ دکھائیے اپنا

کہ میں بھی سینے میں شوقِ وصال رکھتا ہوں

 

یہ تابِ عشق نہ دل سے کہیں بکھر جائے

قدم قدم پہ میں اسکا خیال رکھتا ہوں

 

ہے کیسا باعثِ صد رشک و نازیہ منظرؔ

کہ دل فدائے شہِ خوش خصال رکھتا ہوں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ