نعت کہنے کا سلیقہ میں کہاں سے لاؤں

نعت کہنے کا سلیقہ میں کہاں سے لاؤں

حرف و الفاظِ جمیلہ میں کہاں سے لاؤں

 

آنکھ اٹھتی ہی نہیں گنبدِ خضری کی طرف

شان میں اسکی قصیدہ میں کہاں سے لاؤں

 

لمس سرکار کی زلفوں کا ہواؤں کو ملا

ایسا پاکیزہ نصیبہ کہاں سے لاؤں

 

جب کہ سایہ بھی نہیں آپ کا موجود آقا

مثلِ اوصافِ حمیدہ میں کہاں سے لاؤں

 

دم بخود ہاتھ کو پھیلائے ہوئے بیٹھا ہوں

اور مقبول طریقہ میں کہاں سے لاؤں

 

عقل محدود ہے اور نعتِ نبی ہے منظرؔ

لائقِ شان صحیفہ میں کہاں سے لاؤں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ