اردوئے معلیٰ

Search

نواب شاہ ! آپ کا اعلیٰ مقام ہے

اک میں ہی کیا یہ سارا زمانہ غلام ہے

 

نواب شاہ ! آپ تو اسکا قرار ہیں

ہاتھوں میں جس کے دونوں جہاں کا نظام ہے

 

چوکھٹ پہ لاکے رکھنا مرا کام تھا ، کیا

شاداب کرنا دل کو مرے تیرا کام ہے

 

نواب شاہ ! دیکھا ہے میں نے یہ بارہا

منگتا تمہارے در کا بڑا شادکام ہے

 

جب سے ہے ذکر تیرا مرا شیوۂ حیات

خلق خدا میں میرا بڑا احترام ہے

 

آیا ہے جو بھی بھر کے گیا دامن مراد

کیا تیرے پاس دولت خیرالانام ہے

 

آسیب اک نگاہ بھی دیکھے مجال کیا

دہلیز کی جبیں پہ رقم تیرا نام ہے

 

بکھری ہے چاندنی یہاں شہر رسول کی

ہمرنگ صبح نو ترے کوچے کی شام ہے

 

ہے خانقاہ عشق میں مسند تری بچھی

تو مسجد خلوص و وفا کا امام ہے

 

میخانۂ سلوک کا پیر مغاں ہے تو

ہاتھوں میں سب کے تیری عنایت کا جام ہے

 

تیری نگاہ کا ہو اشارہ جسے نصیب

اس پر خدا گواہ جہنم حرام ہے

 

وہ مسکرا رہے ہیں مری سمت دیکھ کر

اب تو غم و الم کا مرے اختتام ہے

 

رکھنا ہمیشہ اسکو کرم کی نگاہ میں

یہ نورؔ تیرا بندہ ہے ،تیرا غلام ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ