نہ سکون دے نہ قرار دے ، مجھے امتحاں سے گذار دے

نہ سکون دے نہ قرار دے ، مجھے امتحاں سے گذار دے

اُسے جیت دے اُسے پیار دے ، مجھے مات دے مجھے ہار دے

 

مِری آنکھ میں تِرا خواب ہے ، اُسے نوچ لے ذرا سوچ لے

کوئی پھانس دل میں اُتار دے ، مِرا زخم زخم نکھار دے

 

کسی شام کو مرے نام کر ، کوئی بات ہو تِرا ساتھ ہو

مِری ایک شب تو سنوار دے ، مجھے پیار کر مجھے پیار دے

 

کبھی آس پاس سنوں تجھے ، کبھی حرف حرف بُنوں تجھے

مِرے راستوں کو غبار دے ، کوئی قربتوں کا حصار دے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یہ جو مجھ پر نکھار ہے سائیں
ھجر میں ھے یہی تسکین مُجھے
وہ روٹھی روٹھی یہ کہہ رہی تھی قریب آؤ مجھے مناؤ
پڑھا گیا مرا روزِ جزا جو نامہِ عشق
تحریر سنبھالوں ، تری تصویر سنبھالوں
پھول کھلا روِش روِش ، نُور کا اہتمام کر
خُدا نے تول کے گوندھے ہیں ذائقے تم میں
اچھا ہوا بسیط خلاؤں میں کھو گئے
تم نے یہ سوچنا بھی گوارا نہیں کیا؟
چکھنی پڑی ہے خاک ہی آخر جبین کو

اشتہارات