اردوئے معلیٰ

Search

نہ قیدِہست نہ صدیوں کی حد ضروری ہے

نبی سے عشق ہمیں تا ابد ضروری ہے

 

سکونِ روح کی خاطر خدا کی حمد کے بعد

لبوں پہ نعت کا ہونا اشد ضروری ہے

 

جزائے کارِ محبت میں ان کے کیا کہنے

جنہیں بہشت سے ان کی سند ضروری ہے

 

کمالِ اشک کو لازم ہے سنگِ در ان کا

کہ جیسے پھول کا شبنم کو خد ضروری ہے

 

فزوں ہے جس سے یہ تعدادِ انبیا کا فروغ

ہر اک جمال میں وہ اک عدد ، ضروری ہے

 

تری بقا ترے مجموعہِ عدم سے ہے

طلب کا چھوڑ تردد ، رسد ضروری ہے

 

درِحبیبِِ خدا ہے سنبھل کے جانا ، وہاں

حیا ہے پہلا سلیقہ ، خرد ضروری ہے

 

تری اٹھان تو مضمر ہے تیرے جھکنے میں

نسب وہاں پہ ہے لازم نہ قد ضروری ہے

 

خلافِ حکمِ نبی دل میں خواہشِ دنیا

قدم اٹھائے تو پھر اُس کا رد ، ضروری ہے

 

خدا سے کہہ کے وہ بھجوائیں گے ابابیلیں

انہیں لگے گا جہاں پر مدد ضروری ہے

 

یہ میم حمد بھی کرتی ہے اور محبت بھی

تبھی تو نامِ محمد پہ شد ضروری ہے

 

تو چاہتا ہے کہ مٹی بھی تیرے بوسے لے

تو پھر درود تجھے تا لحد ضروری ہے

 

درود پڑھتے ہیں اور تیرا اسم چومتے ہیں

کہ ہر مقام پہ تیری مدد ضروری ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ