نہ ہو کیوں کر افضل ہمارا محمد

نہ ہو کیوں کر افضل ہمارا محمد

کہ ہے اپنے پیارے کا پیارا محمد

 

الہی یہ محشر میں ہم کہتے جائیں

کہاں ہے کہاں ہے ہمارا محمد

 

وہیں کشتیِ نوح بھی ڈوب جاتی

نہ دیتے جو اس کو سہارا محمد

 

ابھی فرش سے عرش مل جائے جھک کر

کریں گر طلب کا اشارا محمد

 

یہی بات عاشق نے معشوق سے کی

نہیں تیری فرقت گوارا محمد

 

کہیں گے یہی اس شہِ انبیا سے

وہاں ہوں گے جب آشکارا محمد

 

شفیعِ امم روزِ محشر تمھیں ہو

ہمیں ہے تمھارا سہارا محمد

 

صدا خیر مقدم کی کعبے سے آئی

حرم سے جب آئے دوبارا محمد

 

بلا لو مدینے میں پھر داغؔ کو تم

نہیں ہند میں اب گزارا محمد

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ