اردوئے معلیٰ

Search

وار دنیا کا چل نہ جائے کہیں

تو بھی ہم سے بدل نہ جائے کہیں

 

وہ پشیماں تو لازماََ ہو گا

شوق کی عمر ڈھل نہ جائے کہیں

 

اے غمِ یار تیری عمر دراز

میری آہوں سے جل نہ جائے کہیں

 

چُپ تو بیٹھے ہیں سامنے اُس کے

کوئی آنسو نکل نہ جائے کہیں

 

اُس نے وعدہ کیا کل آنے کا

کل کا سورج بھی ڈھل نہ جائے کہیں

 

بھول بیٹھے تو ہیں سکونؔ اُسے

دل اچانک مچل نہ جائے کہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ