ولی دکنی


سوانح ولیؔ دکنی
ولی کے حالاتِ زندگی کے بارے میں اب تک کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جاسکی۔ ولی کے نام، ان کے آبائی وطن اور حتٰی کہ اُردو شاعری میں اُن کا باوا آدم ہونے میں بھی تذکرہ نگاروں کے بیانات میں اختلاف پایا جاتا ہے۔
ولی کے نام سے متعلق بھی ابہام پایا جاتا ہے کہ اُن کا پورا نام کیا ہے؟ محمد حسین آزاد نے اپنی تصنیف آبِ حیات میں ولی کا نام شمس ولی اللہ   لکھا ہے۔ میر حسن اور مرزا علی لطف نے ولی اللہ ، نصیر الدین ہاشمی اور ڈاکٹر نور الحسن ہاشمی نے ولی محمد جب کہ ظہیر الدین مدنی نے محمد ولی اللہ کو اصل نام ٹھہرایا ہے۔ چنانچہ ڈاکٹر ظہیرالدین مدنی اور سخاوت مرزا علی گڑھ تاریخِ اُردو ادب میں رقم طراز ہیں کہ:
“ خاندانی شجرے میں ولی کا نام “شاہ ولی اللہ “دیا ہوا ہے۔ دوسری مستند دستاویزوں میں اُن کا نام “ میاں ولی اللہ ” درج ہے۔ غرض کہ مذکورہ دستاویزوں اور تائیدی شہادتوں سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ولی کا صحیح نام “محمد ولی اللہ ” تھا”
بہرحال مذکورہ تحقیقات سے یہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ولی کا پورا نام/ اصل نام ولی محمد یا ولی اللہ  تھا مگر ولی ان کی شناخت اور وجہ شہرت بنا۔
ولی کے نام کی طرح ولی کی جائے پیدائش بھی تذکرہ نگاروں میں اور محقیقین کے درمیان متنازعہ رہی ہے۔ اس بابت بھی تذکرہ نویسوں اور محققین کے دو گروہ پائے جاتے ہیں جو ولی کے آبائی وطن کے متعلق مختلف آراء رکھتے ہیں۔ ان میں سے ایک گروہولی کا وطن اورنگ آباد(دکن) تسلیم کرتا ہے اور دوسرا احمد آباد گجرات۔
دکنی محققین نے ولی کو دکنی اورنگ آبادی ثابت کیا ہے۔ اس ضمن میں نصیرالدین ہاشمی لکھتے ہیں کہ
“ولی اورنگ آباد کے رہنے والے تھے اورتحصیلِ علم کے لیے گجرات کا سفر کیا اور ایک مدت تک وہیں قیام کیا تھا”
محی الدین زور قادری بھی ولی کو اورنگ آبادی گردانتے ہیں۔وہ” نذرِ ولی کی تقریب “میں لکھتے ہیں
“ ادارہ ادبیات اُردو نے بھی اسی تقریب سے متاثر ہوکر بابائے ریختہ حضرت ولی اورنگ آبادی کی خدمت میں ایک نذرانہ ٕ عقیدت پیش کرنے کا تہیہ کیا جو اس وقت “نذرِ ولی” کی شکل میں زیرِ نظر ہے۔
ولی کےدکنی ہونے کا ثبوت ان کے اس شعر سے بھی ہوتا ہے جس میں انہوں نے دکن کو اپنا ملک کہا ہے
ولیؔ ایران و توران میں ہے مشہور
اگرچہ شاعر ملکِ دکن ہے
میر تقی میر نے اپنے ایک شعر میں ولی کے دکنی ہونے کا اشارہ دیا ہے۔
خُوگر نہیں کچھ یونہی ہم ریختہ گوئی کے
معشوق جو تھا اپنا باشندہ دکن کا تھا
ڈاکٹر نور الحسن ہاشمی نے کُلیاتِ ولی کے مقدمے میں
ولی کو (دکنی)اورنگ آبادی ہی لکھا ہے۔ یہی نہیں
بلکہ تذکرہ نگاروں اور محققین کی ایک کثیر تعداد نے ولی کو دکنی قرار دیا ہے جن میں درج ذیل سرِ فہرست ہیں:
ا ) میر تقی میرؔ (نکات الشعرا)
۲ ) فتح علی گردیزی (تذکرہ ریختہ)
۳ ) لچھمی نرائن شفیق اورنگ آبادی (چمستانِ شعرا)
۴ ) حکیم قدرت اللہ  قائم ( مجموعہ مغز)
۵ ) رام بابو سکسینہ ( تاریخ اُردو ادب)
۶ ) احسن مارہروی (مرتب کُلیاتِ ولی)
تذکرہ نگاروں او محققین کا دوسرا گروہ جو ولی کا وطن احمد آباد (گجرات) سمجھتا ہے وہ درج ذیل ہیں:
۱ ) خواجہ خان حمید اورنگ آبادی (گلشنِ گُفتار)
۲ ) شیخ قائم الدین قائم (مخزن نکات)
۳ ) میر حسن ( تذکر شعرا)
۴ ) نواب ابراہیم خان ( گلزارِ ابراہیم )
۵ ) عبدالغفور نساخ ( سخن شعرا)
المختصر ولی کے وطن سے متعلق یہ بحث اس نتیجے پر ختم ہوتی دکھائی دی کہ اصلاً ولی گجراتی ہیں مگر ولی کی عمر کا زیادہ حصہ دکن میں گزرا اس لیے دکن کی حیثیت بھی وطن جیسی ہی ہوئی اس اعتبار سے ولی کا اصل وطن گجرات اور وطن مالوف دکنی قرار پایا۔
ولی کے متعلق محققین میں تیسرا اختلاف یہ پایا جاتا ہے کہ ولی اُردو شاعری( غزل) کے باوا آدم نہیں ہیں۔
تحقیق کے مطابق ولی سے پہلے اُردو غزل کی ابتدا امیر خسرو اور ان کے دور کے دیگر شعرا اس کے بعد قلی قطب شاہ اور میراں ہاشمی تک کے چودہ شاعروں سے ہوچکی ہے البتہ ولی کو اس لحاظ سے غزل کا باوا آدم کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے غزل کو جدید زبان و مضامین عطا کیے، اُردو غزل گوئی کو سماجی عمل اور تحریک کی حیثیت بخشی، زبان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو ابھارا ۔ اپنے دور کے ادبی اور فکری روایات کو شاعری کا حصہ بنایا ، غزل کے اظہار کے سانچے مرتب کیے اور زبان کے مختلف تجربات کے ذریعے ایسا شعری سرمایہ دیا جو غزل کی ترقی میں معاون ثابت ہوا۔
ولی کی شاعری ری پر مختلف محققین نے اپنی آراء پیش کی ہیں۔
ولی محمد صادق کے بقول :
“ولی کی شاعری تاریخی لحاظ سے اس وجہ سے اہم ہے کہ اس کے زیرِ اثر شمالی ہند میں جدید شاعری کا آغاز ہوا اور رفتہ رفتہ یہ اسلوب پورے ملک میں چھا گیا اس لیے اگر آزاد کے الفاظ میں ولی کو اُردو شاعری کا “باوا آدم” کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا”
بقول رام بابو سکسینہ “ جب ولی کا منیر اقبال چمکا تو چھوٹے چھوٹے تارے اُفقِ شاعری پر اس وقت ضیا فگن تھے سب مانند پڑ گئے، ولی کو ریختہ کا  موجد گویا اُردو کا چاسر(Chausar ) خیال کرنا چاہیے ،اُس زمانے میں اُردو شاعری کا سنگِ بنیاد باقاعدہ طور پر رکھا گیا “
حامد افسر کہتے ہیں:
“ یوں تو ولی دکنی اُردو شاعر کہلاتے ہیں لیکن ان کے کلام کا بہت سا حصہ اس زبان میں موجود ہے جو فصیح مانی جاتی ہے اور ہمارے روزمرہ میں داخل ہے۔ گویا ولی نے اپنے زمانے سے ڈھائی سو برس بعد کی زبان کا صحیح اندازہ کرلیا ۔ولیؔ حقیقی شاعر شاعر تھے، انھوں نے غزل گوئی کا حق ادا کردیا“
ڈاکٹر سید عبد اللہ  کے بقول:
“حق یہ ہے کہ معاملات اور حکیمانہ گہرائی اور درد مندی اور سوزو گداز کی کمی کے باوجود ولی کا کلام بڑا خوش رنگ اور خوشگوار ہے۔ بہار آفریں الفاظ،خوب صورت تراکیب،گل و گلکشت کی تکرار، حسن کے ترانے اور نغمے ، مناسب بحروں کا انتخاب اور اسالیب فارسی سے گہری واقفیت اور ان سے استفادہ۔ ان سب باتوں نے ولی کو ایک بڑا رنگین شاعر بنا دیا ہے۔“
ولی تعلیم حاصل کرنے کے شوقین تھےان کےاس شوق کا اندازہ ان کی علمی، ادبی اور مذہبی معلومات سے بخوبی ہوتا ہے جو ان کے کلام میں پائی جاتی ہیں. حصولِ علم کے لیے ولی نے بہت سی جگہوں کا سفر کیا. گجرات ، احمد آباد اور دلی کی سیاحت اسی زمرے میں آتی ہے. علم کے حصول کےلیے ولی شاہ وجہیہ الدین کی خانقاہ کے مدرسہ سے بھی وابستہ رہے. ولی فارسی زبان پر دسترس رکھتےتھے. ان کے کلام سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ علومِ متداولہ( مروجہ علوم یا وہ علم جو ایک دوسرے سےباری باری لیا جائے) پر بھی عبور رکھتے تھے. ولی نے حج و زیارت کے لیے مکہ و مدینہ کا سفر براستہ سورت کیا جس کا ذکر ان کے کلام میں ملتاہےسیاحت کے ضمن میں ولی کا سفر دہلی بہت اہمیت رکھتا ہے، زندگی میں دو مرتبہ وہ دہلی گئے۔ اس سفر نے شمالی ہند کی ادبی تاریخ میں ایک انقلاب برپا کردیا۔ یہاں ولی کی ملاقات سعد اللہ گلشن سے ہوئی جنہوں نے ولی کو فارسی شعرا کے کلام سے استفادہ کرنے کی صلاح دی۔
ولی کی تاریخِ وفات بھی اختلاف کا شکار ہے۔اس سلسلے میں کئی تاریخیں لکھی جاتی رہی ہیں جن میں 1728ء ، 1742ء، 1743ء،1744ء وغیرہ ہیں
لیکن جدید تحقیق کے مطابق ان کا انتقال 1707ء میں احمد آباد میں ہوا اور وہیں نیلی گنبد کے قریب موسیٰ سہاگ اور شاہی باغ کے درمیان دفن کیے گئے۔ اس تاریخ کی تصدیق اس قطعۂ تاریخ وفات سے ہوتئ ہے جو مولوی عبدالحق کو کتب خانہ جامع مسجد بمبئ کے ایک قلمی نسخہ دیوانِ ولیؔ سے ملا ہے جس کو مفتی احسن نے نظم کیاہے
مطلع دیوانِ عشق سید ارباب دل والئی ملکِ سخن صاحبِ عرفان ولیؔ
سالِ وفا تش خرد از سر الہام گفت
بادینا ولی ساقئ کوثر علی
ڈاکٹر ظہیر الدین مدنی نے بھی لکھا ہے کہ اس تاریخِ وفات کی تائید بیاضِ قلمی کتب خانہ حسینی پیر احمد آباد سے ہوئی ہے۔
ولی کی شاعری ، فن اور زبان کے اعتبار سے دو حصوں میں منقسم ہے۔ پہلے دور کے کلام میں دکنی لفظوں کا اثر نظر آتا ہے۔ دہلی آنے کے بعد انہوں نے سعد اللہ گلشن کے مشورے پر فارسی شاعری کی تراکیب و خیالات کو اپنے کلام میں برتا
دوسرے دور کی غزلوں میں انہوں نے سادہ ، رواں اور میٹھی زبان استعمال کی ہے۔ ولی نے غزل کے علاوہ ہر صنف سخن میں طبع آزمائی کی مگر غزل ان کی شناخت اور وجہ شہرت بنی۔ ولی کی غزلیں روائتی طرزِ احساس کی ترجمانی کرتی ہیں ان کے یہاں عشقِ مجازی اور عشقِ حقیقی کے مناظر نظر آتے ہیں۔
ولی ہے مست قدح زار زار وحدت کا
نہ حاجت اس کوں صراحی بہ التفاتِ قدح
ہر ذرہ ٕ عالم میں ہے خورشید ِ حقیقی
یوں بوجھ کہ بلبل ہوں ہر غنچہ دہاں کا
پھر میری خبر لینے وہ صیاد نہ آیا
شاید کہ مرا حال اسے یاد نہ آیا
جلتا ہوں شب و روز ترے غم میں اے ساجن
ہر سوز ترا مشعلِ سوزاں سوں کہوں گا
 
(ولی کےکلام کی شاعرانہ خصوصیات)
 
اردو شاعری میں غزل ایک ایسی صنف ہے جسے اپنی نو زائیدگی سے لےکراب تک تمام تر ادبی وسیاسی انقلابات ورجحانات میں تغیرو تبدل کے باوجود نہ صرف بقاۓ دوام حاصل ہے بلکہ یہ اپنی پوری دل آویزی ،نیرنگی ، دلکشی ورعنائی اور سحرانگیزی کے ساتھ مسندِ شاعری پر جلوہ افروز ہے۔ دلوں پراس کی حکمرانی ہنوز قائم  ہے۔ مشاہدہ ہے کہ جوں جوں اردو شاعری کی عمر میں اضافہ ہوتا گیا ، غزل کی رنگینی اورجازبیت بھی بڑھتی گئی۔ شاعری کی دیگر اصناف جیسے قصیدہ ، مثنوی ، شہر آشوب وغیرہ ایک خاص وقت تک شعرا کے مزاج اور خیال کا حصہ رہیں مگر غزل وہ صنف ہے جسے ہر دور میں برتا گیا اور جس کی مقبولیت میں روز افزوں اضافہ ہی ہوتا گیا۔
ولی کی شاعری بھی اصلاً غزل کی شاعری ہے اگر چہ انھوں نے مثنوی ، قصیدہ، قطعہ اور خمسہ سبھی پر طبع آزمائی کی مگر جس صنف نے ولی کو شہرت کے بامِ عروج پر پہنچایا وہ ان کی غزل گوئی  ہے جس نے انھیں غزل کا باوا آدم ہونے کا اعزاز بخشا۔ اگرچہ ولی سے پہلےبھی غزل کی روایت کا نشان ملتا ہے لیکن ولی کی غزل کئی وجو ہات کی بنا ٕ پر دوسروں سے منفرد و ممتاز ہے۔ اس کی پہلی وجہ تو ولی کی زبان ہے۔ ولی سے پہلے دکنی اورگجراتی کے غیر مانوس الفاظ غزل کی جادو گری اور دلنوازی میں سدّ ِ راہ تھے۔ ولی نے اپنی ذہانت اور جدّتِ طبع سے زبان کو ایسی شکل دی کہ دکن سے شمالی ہند تک اس کا چرچا ہونے لگا۔ ولی کی زبان ٹھیٹھ گجراتی یا دکنی نہیں ہے۔ان کی زبان بڑی صاف اور شستہ ہے ۔انھوں نے فارسی اور عربی کے ایسے الفاظ استعمال کیے اور ان سے ایسی تراکیب وضع کیں کہ جن سے زبان کا حسن دو بالا ہوگیا۔ اسی کے ساتھ ساتھ ہندی ، گجراتی اور دکنی الفاظ و تراکیب کی آمیزش ان کی زبان کی وسعت کا پتا دیتی ہے۔
ولی کُون کہے تو اگر یک بچن
رقیباں کے دل میں کٹاری لگے
ترے بن مجکوں اے ساجن یو گھر اور بار کرناں کیا
اگر تو نا اچھے مجھ کَن تو یو سنسار کرناں کیا
حسن تھا پردہ ٕ تجرید میں سب سوں آزاد
طالبِ عشق ہوا صورتِ انسان میں آ
ولی کی مقبولیت کی دوسری وجہ ان کے کلام میں تصورات اور تاثرات کا وہ خوب صورت ملاپ ہے جو کسی کےحصے میں نہیں آیا۔ولی نےاسےجداگانہ انداز بخشا ۔ولی کو اپنی اس انفرادی خوبی کا بخوبی ادراک تھا جس کا اظہار وہ اپنے مقطعوں میں کرتے ہیں۔
ولی تجھ شعر کو سن کر ہووے ہیں مست اہلِ دل
اثر ہے شعر میں تیرے شرابِ پرتگالی کا
اے ولی مجھ سخن کوں وہ بوجھے
جن کو حق نے دیا ہے فکر رساں
غزل کی ایک خصوصیت اس کی فراخیِ داماں ہے جس میں متنوع قسم کے مضامین باندھے جا سکتے ہیں۔اس میں صوفیانہ و فلسفیانہ خیالات، آلامِ روزگار
زندگی کی تلخییوں اورشادمانیوں کے موضو عات ملتے ہیں لیکن غزل کا بنیادی موضوع حسن و عشق اور اس کے معیار کا پیمانہ تغزل ہی رہا ہے جو آج تک قائم  ہے۔ولی کی شاعری کی مقبولیت کا راز بھی ان کاحسنِ تغزل ہے ۔ ان کے کلام میں شروع سے آخر تک
ایک خاص قسم کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ ایک عجیب قسم کا کیف وسرور ہے ، ایک ایسا نشہ ہے جو نہ بہکنے دے نہ ہوش میں آنے دے۔ولی حسن کی دلکشی اور عشق کی واردات کو ایک خاص والہانہ انداز میں بیان کر کے لطیف کیفیت پیدا کر دیتے ہیں۔
گر نہ نکلے سیر کو وہ نو بہار
ظلم ہے، فریاد ہے،افسوس ہے
ادا و ناز سوں آتا ہے وہ روشن جبیں گھر سوں
کہ جیوں مشرق سوں نکلے آفتاب آہستہ آہستہ
ولی کی شاعری کا محور و مرکز حسن و عشق ہی ہے اور یہ حسن و عشق حقیقی بھی ہےاور مجازی بھی۔ ان ے کلا م میں دونوں طرح کی کیفیات پائی جاتی ہیں۔ ولی جب عشق حقیقی کو بیان کرتے تووہ کسی بھی پیتم ، سریجن یا سجن کے ذریعے اس حسنِ لازوال تک پہنچنا چاہتے ہیں جو ساری کائنات پر محیط ہے اس کے برعکس جب عشقِ مجازی کو بیان کرتے ہیں تو اس سریجن ، پیتم اور سجن کی تعریف میں اس کاسراپا لکھتے ہوۓ اس کے قد و گیسو کی قیامت خیزی ، لب رخسار کی حلاوت اور چشم و ابرو کی فتنہ انگیزی کا ذکر اس وارفتگی وسر شاری سے کرتے ہیں کہ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ولی کا محبوبِ مجازی حسن میں یکتا و مثالی ہے اور ایسا سراپا وہی کھینچ سکتا ہےجس نے عشق کیا ہواور محبوب کا دیدار کیا ہو۔
قد ترا رشکِ سرو رعنا ہے
معنئی نازکی سراپا ہے
تجھ بھواں کی میں کیا کروں تعریف
مطلع ٕ شوخ و رمز و ایما ہے
ولی کے یہاں جمالیاتی حِس بڑی شدو مد سے پائی جاتی ہے ان کی کلیات میں بیشتر اشعار احساس جمال کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ اس احساس جمال نے انھیں اُردو شاعری کا سب سے بڑا سراپا نگار بنا دیا ہے۔ان کے محبوب کا مُکھ حسن کا دریا ہے اس کی جھلک سے آفتاب گہنا جاتا ہے، اس کا مُکھڑا صفحہ ٕ قرآں ہے۔ اسی طرح تمام اعضائے جسمانی کی توصیف نہایت عمدہ انداز میں بیان کی ہے۔ ان کی غزلوں میں قد ، زلف،آنکھ ، ابرو، اور رخسارو عارض کا ذکر بار بار ملتا ہے مگر ان کی طرزِ ادا کی دلکشی کی وجہ سے ان لفظوں کی تکرار بارِ گراں گزرنے کی بجائے مزا دیتی ہے۔
وہ نازنیں ادا میں اعجاز ہے سراپا
خوبی میں گل رخاں سوں ممتاز ہے سراپا
تیرا قد دیکھ کر پاؤں پہ جھک جھک
پڑے شمشاد کی ڈالی پہ ڈالی
تشبیہات و استعارات شاعری کا گہنا ہیں ۔ان سے شاعری کاحُسن دو چند ہوجاتا ہے۔ ولی نے اپنی شاعری میں تشبیہات و استعارات کو بڑے سلیقے سے برتا ہے۔ بقول سید عبد اللہ  :
“ولی کے کلام میں حسن و لطف کا ایک بڑا ذریعہ ان کی تشبیہات ہیں جن سے ان کے کلام کے پوشیدہ اسرار کا پتا چلتا ہے”۔
موج دریا کو دیکھنے مت جا
دیکھ اس زلفِ عنبریں کی ادا
تیرا مکھ مشرقی ، حسن انوری جلوہ جمالی
نین جامی ، جبیں فردوسی و ابر ہلالی
ولی کی تراکیب، تشبیہات و استعارات نہایت دلکش ہیں جو شعر میں جان ڈال دیتے ہیں اور جس چیز کا بیان کرتے ہیں نگاہوں میں اس کا نقش ابھر آتا ہے۔
ولی کے کلام کی ایک اور خوبی غنائیت اورموسیقیت ہے۔ یہ خوبی ان کی غزلوں میں بدرجہ ٕ اتم پائی جاتی ہے کیوں کہ ولی نے الفاظ کی کیفیت اور ان کے صوتی اثرات کا بہت خیال رکھا ہے۔ الفاظ کے صوتی آہنگ کے ملنے سے جو غنائیت اور موسیقیت پیدا ہوتی ہےولی نے اس کو نظر میں رکھ کر اشعار کہے۔ انہوں نے ایک ہی حرف سے شروع ہونے والے الفاظ سے غننائیت پیدا کی ہے۔
اے نو بہارِ حسن تو گلشن میں جب چلا
گل کر ہوئے گلاب گلاں تیرے گال دیکھ کر
صنعت کے مصور نے صباحت کے صفحے پر
تصویر بنایا ہے تیری نور کو حل کر
اُردو شاعری میں تصوف ابتدا سے ہی خاص موضوع رہا ہے۔ قدما میں شاید ہی کوئی ایسا شاعر ہوگا جس نے مسائلِ تصوف کو اپنے کلام میں جگہ نہ دی ہو۔ صوفیائے کرام بذاتِ خود شاعر ہوتے تھے ان کی شاعری میں بندہ و خدا کا تعلق، فنا و بقا، دنیا کی بے ثباتی، قناعت و معرفتِ الہیٰ کے مسائل اور محبت و حقیقت کی تلاش کا آئینہ ہوتی تھی۔
ولی کی شاعری میں بھی تصوف کا پرتو ملتا ہے۔ ولی خود بھی ایک صوفی تھے۔ وہ خود اور ان کی شاعری صوفیانہ ماحول میں پروان چڑھی ۔ ولی کے کلام میں فلسفیانہ خیالات اور تصوف کی باریکیوں کی طرف اشارے ملتے ہیں جس کی اہم وجہ احمد آباد میں شاہ نورالدین سے درسِ سلوک لینا ہے اور ان کے استاد سعد گلشن تھے جو خود ایک صوفی بزرگ تھے ۔ ان کے علاوہ شاہ علی رضا سر ہندی جو گجرات میں سکونت پذیر تھے ولی کو ان سے بھی بڑی عقیدت تھی۔ ولی نے اپنے کلام میں ایک جگہ ان کا ذکر بھی کیا ہے
بادشاہِ نجف ولی اللہ  پیرِ کامل علی رضا پایا
ولی نے شیخ نورالدین سہروردی سے بھی باقاعدہ علوم عقلی و نفلی حاصل کی جن کے نظریے کی بنیاد عشق ہے اور انسان بظاہر عشق سے ہی حقیقت تک پہنچتا ہے۔ عشق کی یہ تعلیم ولی کو اپنے تصوف سے ملی ہے کہ عشق ہی انسان کو کمال تک پہنچاتا ہے۔ ولی کا کہنا ہے کہ مجاز کے بغیر حقیقت کو نہیں پایا جا سکتا
در وادئ حقیقت جن نے قدم رکھا ہے
اوّل قدم ہے اس کا عشقِ مجاز کرنا
ولی کے یہاں حسنِ مجازی کے تصور کے ساتھ حسنِ حقیقی کا تصور بھی بڑا گہرا ہے۔ جس کا جلوہ عالم کی ہر چیز میں ہےاور جس میں مل جانے کو وہ عرفان سمجھتے ہیں ۔
عیاں ہے ہر طرف عالم میں حسن بے حجاب اس کا
بغیر از دیدۂ حیراں نہیں جگ میں نقاب اس کا
ولی اسی حسین محبوبِ حقیقی کے نام کی مالا چبتے ہیں اور اسی کی حمد و ثنا یوں بیاں کرتے ہیں
کیتا ہوں ترے نانوں کو میں ورد زباں کا
کیتا ہوں ترے شکر کو عنوان بیاں کا
تنہا نہ ولی جگ منیں لکھتا ہے تیری وصف
دفتر لکھے عالم نے تری حمد و ثنا کے
ولی نے اپنے کلام میں تصوف کے اور بھی مسائل بیان کیے ہیں جن میں طمع کی برائی ، نامہ اعمال کو آنسوؤں سے دھو کر پاک کرنا اور محبوبِ حقیقی کے لیے اعمالِ زندگی کا گلدستہ بطور تحفہ دینے کی خواہش کی ہے۔
طمع مال کی سر بسر عیب ہے
خیالاتِ گنج جہاں سر سوں ٹال
سیہ روی نہ لے جا حشر میں دنیائے فانی سوں
سیہ نامے کو دھو اے بے خبر انجواں کے پائی سوں
ولی کے کلام میں ایک بڑی خوبی یہ پائی جاتی ہے کہ ان کی شاعری میں پژ مردگی نہیں ہے، ان میں مریضانہ کیفیت نہیں پائی جاتی۔ ان کے کلام میں نہ محبوب کے ستم کا رونا ہے نہ آلامِ روزگار کی فریاد نہ چرخِ ناہنجار کے شکار کا واویلا اور نہ محبوب کے بے وفا ، قاتل ، ظالم وغیرہ ہونے کی شکایت ملتی ہے ۔ولی کے یہاں اس قسم کے مضامین تو کیا غم کے مضامین بھی نہیں ملتے :
ڈاکٹر سید عبد اللہ  لکھتے ہیں :
“ولی کا امتیازِ خاص ہے کہ وہ معدودے ان چند شاعروں میں سے ہے جن کی غزل بلکہ سارے کلام کو پڑھ کر غم کی کیفیت پیدا ہونے کی بجائے طبعیت پر شگفتگی طاری ہوجاتی ہے”
ولی کے یہاں دنیا کی بے ثباتی ، غم اور آلامِ روزگار کےایسے دو چار اشعار ملتےہیں جو کلام کی مجموعی حیثیت میں آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہیں۔
باعثِ رسوائی عالم ولی
مفلسی ہے، مفلسی ہے مفلسی
نہیں ہے شوق مجھ کو باغ کی گلگشت کا ہرگز
ہوا ہے جلوہ گر داغاں سوں سینے کا چمن میرا
اسی طرح ولی کے کلام میں جنازہ،گورو کفن ، میت اور اسی طرح کے دوسرے غم و اندوہ کے الفاظ کبھی استعمال نہیں ہوئے۔
ولی کے فن کے یہ خاص پہلو ہیں جو ان کی شاعرانہ عظمت کی دلیل ہیں۔ سچ یہ ہے کہ معاملاتِ زندگی ، حکیمانہ گہرائی ، درد مندی اور سوزو گداز کی کمی کے باوجود ولی کا کلام خوش رنگ ، خوشگوار اور بہار آفریں ہے۔
ولی کی شاعری میں وہ تمام لوازمات موجود ہیں جو شاعری کی خصوصیات سمجھی جاتی ہیں۔ ولی نے تمام صنعتوں کو بڑی خوصورتی سے اپنےکلام میں جگہ دی ہے۔
ولیؔ نے ایہام گوئی سے شعر میں حسن پیدا کرنے کی کوشش کی ہے اور اکثر و بیشتر کامیاب رہے ہیں۔
موسیٰ اگر جو دیکھے تجھ نور کا تماشا
اس کوں پہاڑ ہووے پھر طور کا تماشا
نہ جانوں خط ترا کس بے خطا پر
چلا ہے آج فوج شام لے کر
ولیؔ نے رعایت لفظی سے بھی خوب خوب کام لیا ہے۔
یوں تل تجھ مکھ کے کعبہ میں مجھے اسود حجر دستا
زنخداں میں ترے مجھ چاہ زمزم کا اثر دستا
کثرت کے پھول بن میں جاتے نہیں ہیں عارف
بس ہے موحّداں کوں منصور کا تماشا
پروانہ ہو کے کیوں نہ گرے چاند چرخ سوں
فانوس دل میں شوق ترا ہے سراج آج
حسن تعلیل کو بھی عمدگی سے برتا ہے۔
ماہ کے سینے اُپر اے شمع رو
داغ ہے تجھ حسن کی جھلکار کا
مراعات النظیر کی مثالیں بھی ولی کے اشعار میں ملتی ہیں۔
آج کی رین مجھ کو خواب نہ تھا
دونوں انکھیاں میں غیر آب نہ تھا
تجھ حسن آب دار کی تعریف کیا لکھوں
موتی ہوا ہے غرق تجھے دیکھ آب میں
صنعت تضاد کی مثالیں بھی ولی کے یہاں بکثرت ملتی ہیں۔
جاتا ہے دن تمام اسی مکھ کی یاد میں
ہوتا ہے فکر زلف میں احوال شب عجب
نہ ہوئے اسے جگ میں ہرگز قرار
جسے عشق کی بے قراری لگے
صنعت ردالعجز علی الصدر بھی ولی کےیہاں پائی گئی ہے۔
بے وفا گر تجھ کو بولوں ہے بجا اے نازنیں
نازنیں عالم منیں ہوتے ہیں اکثر بے وفا
الغرض ولی کے یہاں تمام صنعتوں کا بہت ہی خوبی سے استعمال ہوا ہے۔
مجموعی اعتبار سے خوبصورت تراکیب ، حسن و عشق کے نغمے، مناسب بحروں کا انتخاب، اسالیبِ فارسی سے واقفیت ، روانی، رنگینی ، سر مستی ، کیفیتِ نشاط و سرور، تشبیہات و استعارات چستی ، جمالیاتی حسن ، رمزیت اور ہندی فارسی و عربی الفاظ کا حسین امتزاج ولی کے کلام فن کی وہ خصوصیات ہیں جنھوں نے ولی کو آزاد کے الفاظ میں غزل کا باوا آدم بنا دیا ہے۔
ولی کے فن کا اعتراف ان کے بعد کے شعرا نے بھی کیا ہے۔
حاتمؔ یہ فنِ شعر میں کچھ تو بھی کم نہیں
لیکن ولیؔ ولی ہے جہاں میں سخن کے بیچ
(شاہ حاتم)
خو گر نہیں کچھ یوں ہی ہم ریختہ گوئی کے
معشوق جو تھا اپنا باشندہ دکن کا تھا
(میر تقی میرؔ)
آبرو شعر ہے تیرا اعجاز
پر ولئ کا سخن قیامت ہے
(شاہ مبارک آبرو)
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سراج الدین خان آرزو
شاہ مبارک آبرو