اردوئے معلیٰ

Search

 

وہاں جب جاؤ تو نظریں نہیں دل بھی جھکا لینا

حرم کی خاک اپنی پلکوں سے چن کر اٹھا لینا

 

یہ وہ دربار ہے جس کا ادب قرآں سکھاتا ہے

کسی حاجت پہ بھی آواز اپنی مت بڑھا لینا

 

بچھڑ کر منبرِ آقا سے زار و زار جو رویا

سلاموں میں محبت اس ستوں جیسی بسا لینا

 

کوئی کیا ارمغاں شایانِ دربارِ رسالت ہو

فداک یارسول اللہ بس لب پر سجا لینا

 

غذائے روحِ انساں ہے یہی تکمیلِ ایماں ہے

ثنائے سرورِ عالم سے قسمت کو جگا لینا

 

یہاں جو بھی ملے بھر لینا اپنے جیب و داماں میں

کہ مولا جانتے ہیں کب غلاموں کو ہے کیا لینا

 

یہی ہے آرزوئے منظرِؔ عاصی شہِ والا

لواء الحمد کے سائے تلے اس کو چھپا لینا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ