وہاں جب جاؤ تو نظریں نہیں دل بھی جھکا لینا

 

وہاں جب جاؤ تو نظریں نہیں دل بھی جھکا لینا

حرم کی خاک اپنی پلکوں سے چن کر اٹھا لینا

 

یہ وہ دربار ہے جس کا ادب قرآں سکھاتا ہے

کسی حاجت پہ بھی آواز اپنی مت بڑھا لینا

 

بچھڑ کر منبرِ آقا سے زار و زار جو رویا

سلاموں میں محبت اس ستوں جیسی بسا لینا

 

کوئی کیا ارمغاں شایانِ دربارِ رسالت ہو

فداک یارسول اللہ بس لب پر سجا لینا

 

غذائے روحِ انساں ہے یہی تکمیلِ ایماں ہے

ثنائے سرورِ عالم سے قسمت کو جگا لینا

 

یہاں جو بھی ملے بھر لینا اپنے جیب و داماں میں

کہ مولا جانتے ہیں کب غلاموں کو ہے کیا لینا

 

یہی ہے آرزوئے منظرِؔ عاصی شہِ والا

لواء الحمد کے سائے تلے اس کو چھپا لینا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ