وہ ایک غم کا گیت سنائے بیٹھا تھا

وہ ایک غم کا گیت سنائے بیٹھا تھا

میں بھی سارے درد بھلائے بیٹھا تھا

 

رستہ کیسے ملتا میرے خوابوں کو

میں نیندوں سے شرط لگائے بیٹھا تھا

 

نیند فقط اس بات پہ مجھ سے روٹھی ہے

میں پہلے سے خواب سجائے بیٹھا تھا

 

میں آمین کہے جاتا تھا اُس لمحے

جب وہ اپنے ہاتھ اُٹھائے بیٹھا تھا

 

زینؔ اُسی کے دامن سے وابستہ ہوں

جو ہاتھوں سے ہات چھڑائے بیٹھا تھا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کتنے چراغ جل اٹھے، کتنے سراغ مل گئے
دُھوپ میں جیسے پھول ستارہ لگتا ہے
خواب کدھر چلا گیا ؟ یاد کہاں سما گئی ؟
اذیت سب کا ذاتی مسئلہ ہے
ایک منظر ہے فروزاں دودھیا قندیل میں
مجھ کو چھپا حروف کے آنچل میں شاعری
نیا سلسلہ آئے دن امتحاں کا
جو ایک باس گھنے جنگلوں میں آتی ہے
اک دور میں میں عشق کا منکر ضرور تھا
میں اپنی ذات سے ہجرت کا سانحہ سہہ لوں