اردوئے معلیٰ

Search

وہ ایک غم کا گیت سنائے بیٹھا تھا

میں بھی سارے درد بھلائے بیٹھا تھا

 

رستہ کیسے ملتا میرے خوابوں کو

میں نیندوں سے شرط لگائے بیٹھا تھا

 

نیند فقط اس بات پہ مجھ سے روٹھی ہے

میں پہلے سے خواب سجائے بیٹھا تھا

 

میں آمین کہے جاتا تھا اُس لمحے

جب وہ اپنے ہاتھ اُٹھائے بیٹھا تھا

 

زینؔ اُسی کے دامن سے وابستہ ہوں

جو ہاتھوں سے ہات چھڑائے بیٹھا تھا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ