وہ ایک پھول کھلا تھا جو ریگ زاروں میں

وہ ایک پھول کھلا تھا جو ریگ زاروں میں

اسی کے حسن سے سب رنگ ہیں بہاروں میں

 

وہ ایک شمع کہ روشن ہوئی تھی غاروں میں

وہ چاند بن کے ہوئی منعکس ستاروں میں

 

کہوں ببانگِ دُہل بے جھجھک ہزاروں میں

حبیبِ رب ہے محمدؐ خدا کے پیاروں میں

 

کلام آپ کا جامع، فصیح و پُر تاثیر

ادب شناس گنیں اس کو شاہ پاروں میں

 

اس آفتابِ ہدیٰ سے اگر نہ ہوں ضو گیر

نہ چاند میں ہو کوئی روشنی نہ تاروں میں

 

زہے نصیب کہ وہ سب ہیں زندہ و جاوید

شمار جن کا ہوا اس کے جاں نثاروں میں

 

جمال و حسن کے پہلو سے ہے وہ گل اندام

دمِ جہاد مگر وہ ہے شہ سواروں میں

 

مرے نصیب میں لکھا ہے ساغرِ کوثر

بفضلِ رب ہوں میں اس کے ثنا نگاروں میں

 

نظرؔ جو دل متلاطم ہے اس کی یادوں میں

سرشکِ اشک ہیں کچھ آنکھ کے کناروں میں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

میں ہوں، سفرِ شوق ہے، طیبہ کی ہوا ہے
یوں شبیہِ مناجات بنتی رہے
گر دل میں چھپاؤں تو ہے کچھ شعلہ فشاں اور
ماحول سرورِ اسم کا ہے
آگیا تقدیر سےمیری مدینہ آ گیا
عطائے ساقی ِفطرت ہے کیا حکیمانہ
یہ حالت ہو گئی ضبطِ فغاں سے
فتنہ زا فکر ہر اک دل سے نکال اچھا ہے
زندگی پائی ہے ان سے لو لگانے کے لیے
عجب کیف ہے عجب ہے خمار آنکھوں میں