اردوئے معلیٰ

وہ جو شبنم کی پوشاک پہنے ہوئے

وہ جو شبنم کی پوشاک پہنے ہوئے
زرد پتوں کے جسموں میں لہرا گئے
جن کے نقش کفِ پاک کی رعنائیاں
نسل آدم کو خاکِ شفا بن گئیں
عرشِ اعظم کی دہلیز کے اُس طرف
نام جن کا ازل ہی میں لکھا گیا
جو کتابِ جہاں کے سیہ حاشیے پر
اُجالوں کی رحمت رقم کر گئے
جن سے پہلے تھی ظلمت میں لپٹی ہوئی
غم زدہ زندگی
فکر جامد تمدن کے آثار مفقود تھے
نخلِ تہذیب پرایک وحشی خزاں کا اثر
قلبِ انسانیت
سسکیوں آنسوؤں اور زخموں کا بے نور گھر
ایسے عالم میں رب تعالیٰ کو پھر
اپنی مخلوق پر رحم آہی گیا

تاج رحمت کو سر پر سجائے ہوئے
پرچم عدل و احساں اُٹھائے ہوئے
وہ جو آئے تو عہدِ بہار آگیا
عشق کو جن کے دل کی شریعت کہیں
ذکر کو جن کے جاں کی عبادت کہیں
وہ حبیبِ خدا
احمدِ مجتبیٰ
اُن پہ قربان ہمارے تمہارے وجود
اُن پہ پیہم سلام
اُن پہ دائم درود

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ