وہ جو شبنم کی پوشاک پہنے ہوئے

وہ جو شبنم کی پوشاک پہنے ہوئے
زرد پتوں کے جسموں میں لہرا گئے
جن کے نقش کفِ پاک کی رعنائیاں
نسل آدم کو خاکِ شفا بن گئیں
عرشِ اعظم کی دہلیز کے اُس طرف
نام جن کا ازل ہی میں لکھا گیا
جو کتابِ جہاں کے سیہ حاشیے پر
اُجالوں کی رحمت رقم کر گئے
جن سے پہلے تھی ظلمت میں لپٹی ہوئی
غم زدہ زندگی
فکر جامد تمدن کے آثار مفقود تھے
نخلِ تہذیب پرایک وحشی خزاں کا اثر
قلبِ انسانیت
سسکیوں آنسوؤں اور زخموں کا بے نور گھر
ایسے عالم میں رب تعالیٰ کو پھر
اپنی مخلوق پر رحم آہی گیا

تاج رحمت کو سر پر سجائے ہوئے
پرچم عدل و احساں اُٹھائے ہوئے
وہ جو آئے تو عہدِ بہار آگیا
عشق کو جن کے دل کی شریعت کہیں
ذکر کو جن کے جاں کی عبادت کہیں
وہ حبیبِ خدا
احمدِ مجتبیٰ
اُن پہ قربان ہمارے تمہارے وجود
اُن پہ پیہم سلام
اُن پہ دائم درود

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اگر وہ دیکھ لیں مجھ کو جو اک نظر بھر کے
بے بسوں بے کسوں کی دعا مصطفیٰ
فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ، ہم بھی بے بس نہیں ، بے سہارا نہیں
میں کہاں جاؤں تیرے در کے سوا
اگر میں عہد رسالت ماب میں ہوتا
اے شہِ کون و مکاںؐ تحفہء یزدانی ہو
ہر موج ہوا زلف پریشانِ محمدؐ
جو وہاں حاضری کا ارادہ کرے
قصہء شقِّ قمر یاد آیا​
ترےؐ غلام کا انعام ہے عذاب نہیں

اشتہارات