وہ رات میاں رات تھی ایسی کہ نہ پوچھو

وہ رات میاں رات تھی ایسی کہ نہ پوچھو

پہلی ہی ملاقات تھی ایسی کہ نہ پوچھو

 

پانی ہی نہیں، آگ بھی تھی اُس کی پُجارن

اُس بُت میں کوئی بات تھی ایسی کہ نہ پوچھو

 

انگ انگ میں وہ رنگ کہ ہوتی تھی نظر دنگ

آنکھوں کی مدارات تھی ایسی کہ نہ پوچھو

 

حیرت کو بھی حیرت تھی کہ دیکھے بھی تو کیا کیا

نظاروں کی بُہتات تھی ایسی کہ نہ پوچھو

 

شب بھر میں گدا سے مَیں ہوا بادشہِ عشق

کشکول میں خیرات تھی ایسی کہ نہ پوچھو

 

آنکھوں میں مسلسل تھے رواں اشک خُوشی کے

تاروں کی وہ برسات تھی ایسی کہ نہ پوچھو

 

کیا مُجھ سے محبت ہے ؟ محبت ہے تو کتنی ؟

وہ محوِ سوالات تھی ایسی کہ نہ پوچھو

 

کانوں میں کہی وقتِ سحر اُس نے کوئی بات

اُس بات میں اِک بات تھی ایسی کہ نہ پوچھو

 

وہ پُوچھ رہی تھی کہ سکوں کی کوئی صُورت

اور صُورتِ حالات تھی ایسی کہ نہ پوچھو

 

دِل ہار گیا پھر بھی اُسے جیت گیا میں

وہ جیت بھری مات تھی ایسی کہ نہ پوچھو

 

تھی وقتِ تہجد مری اور اُس کی ہتھیلی

فارس! وہ مناجات تھی ایسی کہ نہ پوچھو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مجھ کو شکستِ دل کا مزا یاد آگیا
اب یہاں سب کو محبت ھے، میاں
اگر یہ کہہ دو بغیر میرے نہیں گزارہ تو میں تمہارا
میں غالبوں جیسا کبھی میروں کی طرح تھا
تہہ قوسین سوتے ہیں سر محراب سوتے ہیں
وصال رُت بھی اگر آئے ، کم نہیں ہوتے
نہ پُھول کی نہ کسی نافۂ غزال کی ہے
دشت ِ قضاء میں خاک اُڑاتی حیات کی
صد چاک ہی دامان و گریبان بھلے ہیں
اب کہاں دستِ حنائی ہے کہ جو رنگ بھرے

اشتہارات