اردوئے معلیٰ

 

وہ صورت مرحبا اتنی حسیں معلوم ہوتی ہے

کہ مدھم صورتِ ماہِ مبیں معلوم ہوتی ہے

 

کوئی کیسے کہے ایسی نہیں معلوم ہوتی ہے

وہ سیرت عکسِ قرآنِ مبیں معلوم ہوتی ہے

 

حلاوت میں سراسر انگبیں معلوم ہوتی ہے

حدیثِ پاک اک اک دل نشین معلوم ہوتی ہے

 

طبیعت کھوئی کھوئی ہم نشیں معلوم ہوتی ہے

پڑی تھی فکرِ طیبہ میں وہیں معلوم ہوتی ہے

 

وہ آنکھیں مدھ بھری ان کی وہ ڈورے قرمزی ان میں

مئے وحدت بہ جامِ آتشیں معلوم ہوتی ہے

 

خموشی، گفتگو، برقِ تبسم، واہ کیا کہئے

ادا ہر ایک دل میں جاگزیں معلوم ہوتی ہے

 

یہ دنیا جس میں چرچا ہے خدائے پاک و واحد کا

یقیناً دیں کی تیرے خوشہ چیں معلوم ہوتی ہے

 

وہ دیکھیں سب سے آگے انبیاء کے صحنِ اقصیٰ میں

مجھے تو ذاتِ ختم المرسلیں معلوم ہوتی ہے

 

خلافِ حق عمل ہو یا تصور جب کوئی ابھرے

تمہاری یاد اس دم نکتہ چیں معلوم ہوتی ہے

 

نہ پوچھ اے ہم نشیں کیا بات ہے اس ارضِ بطحا کی

کہ سب کیفیتِ خلدِ بریں معلوم ہوتی ہے

 

سبھی نبیوں پہ رحمت کی نظرؔ ہے ہاں مگر ان پر

نگاہِ خاسِ رب العٰلمیں معلوم ہوتی ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ