اردوئے معلیٰ

وہ کون سی منزل تھی کل رات جہاں میں تھا

ہر چیز ہی بسمل تھی ، کل رات جہاں میں تھا

 

کس شان کی محفل تھی ، کل رات جہاں میں تھا

کونین کا حاصل تھی ، کل رات جہاں میں تھا

 

ذروں کی جبینوں پر تاروں کا گماں گرا

ہر شے مہِ کامل تھی ، کل رات جہاں میں تھا

 

اک دیدہ حیراں تھا ، ہر عضوِ بدن اپنا

کیا چیز مقابل تھی ، کل رات جہاں میں تھا

 

خود دل کا دھڑکنا بھی جب دل پہ گراں گزرے

وہ کیفیتِ دل تھی ، کل رات جہاں میں تھا

 

آنکھوں سے کہا جائے ، آنکھوں سے سنا جائے

وہ صورتِ محفل تھی ، کل رات جہاں میں تھا

 

الفاظ معانی سے محروم نظر آئے

ہاں بات بھی مشکل تھی ، کل رات جہاں میں تھا

 

دریائے محبت کی طغیانی کا کیا کہنا

ہر موج ہی ساحل تھی ، کل رات جہاں میں تھا

 

ہر نقشِ کفِ پا پر سجدوں کا مزا آیا

عرفان کی منزل تھی ، کل رات جہاں میں تھا

 

اس آئینہ خانے میں‌ہر ایک ادا اُن کی

آپ اپنے پہ مائل تھی ، کل رات جہاں میں تھا

 

اُس کیف حضوری میں ، اُس عالمِ نوری میں

ہر شے مجھے حاصل تھی ، کل رات جہاں میں تھا

 

اس بزم عنایت میں ، دیکھا ہے تو ذات اپنی

اک پردہ حائل تھی ، کل رات جہاں میں تھا

 

آنکھوں میں سرور آیا ، ہونٹوں پہ درود آیا

وہ نعت کی محفل تھی ، کل رات جہاں میں تھا

 

بطحا کے تصور میں اک نور کی چادر سی

دل پر مرے نازل تھی ، کل رات جہاں میں تھا

 

وہ قرب کی اک ساعت جو سرو وہاں گُزری

اک عمر کا حاصل تھی ، کل رات جہاں میں تھا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات